حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 418
: یہ اس وقت کا ذکر ہے کہ جب طرفین کو علیحدگی کا اختیار ہو تو اب رضا مندی سے جو چاہے رہے اور جسے چاہورکھو۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا۔کہ کیونکہ وہ اپنی مرضی سے دین کیلئے رہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۵) ۵۳۔ : جواوپر کا معاملہ ہو چکا۔تو پھر یہ حکم نازل ہوا۔عام مومنوں کو تو آزادی ہے کہ چار چھوڑ کر اور کر لیں مگر نبی کو یہ بھی اجازت نہیں۔: ان کی خوبیاں : جو تیرے نکاح میں آ چکیںوہ آ چکیں اب اور نہیں۔( تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۵ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۵۴۔