حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 416
بیشک انبیاء علیہم السلام کی تعلیم اس تکمیل کی محتاج تھی کہ وہ اپنی خالص عبودیت کو دینی تعلیم کا ضروری جزو قرار دیتے۔اس ضرورت کو صرف قرآن اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہی کی تعلیم نے پورا کیا۔اسی فقرہ کے اثر نے عرب جیسے خالص بُت پرست ملک سے بُت پرستی کا استیصال ہی نہیں کیا۔بلکہ یہود بھی چونک اٹھے باایں کہ ہمیشہ مُرتد ہو جاتے اور بُت پرستی کرتے تھے جیسے قاضیوں کی کتاب اور ان کے بچھڑوں کی پرستش کرنے وغیرہ امور سے ظاہر ہے۔اور آریہ کے معزّز باشندے دعویٰ کرنے لگے کہ ہمارے مقدس وید بُت پرستی کے دشمن اور توحید خالص کے حامی ہیں۔(فصل الخطاب حصّہ دوم طبع دوم صفحہ۱۰۶،۱۰۷) ۴۲،۴۳۔ : کھڑے،بیٹھے،لیٹے۔برّوبحر میں۔لیل و نہار۔ظاہر و باطن۔دُکھسُکھ۔لڑائی سفر۔حضر۔صحت وسقم میں اﷲ ہی یاد ہو۔ان سب مقامات وحالات و اوقات کا ذکر قرآن مجید کی آیات میں ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۵) ۴۴۔ : اﷲ کے ذکر سے ملائکہ کے تعلقات بڑھتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۵) ۴۶،۴۷۔