حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 415
: نبیوں کی مُہر۔آپؐ کی مُہر بغیر اب کوئی حکم شرعی نافِذ نہیں سمجھنا چاہیئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ۲۰۵) : تمام کمالاتِ نبوّت کی آپؐ پر حد ہو گئی۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۴ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) دنیا میں انبیاء کی پاک تعلیم نے خدائے تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی اور اس کے عدل اور قدّوسیت اور رحم اور قدرتِ کاملہ اور ربوبیّت عامہ کا وعظ پھیلایا۔اور بعض مصلحانِ قوم نے بھیجن کی فطرتِ سلیم اور قوتِ ایمانیہ مستقیم تھی۔توحید کو عمدگی سے بیان فرمایا۔مگر ان کے اتباع نے آخر اپنے ہادی ہی کو معبود بنا لیا۔حضرت مسیحؑ نے خداوند کریم کی بزرگی اور عظمت کو بیان تو کیا۔مگر آخر عیسائیوں نے مسیحؑ کو خدائے مجسم کہہ دیا۔بلکہ خوش اعتقادوں نے انکی والدہ مریم صدیقہ کو بھی مُتَمِّمِْ ماہیت تثلیث تجویز کیا۔آریہ وَرت حُکماء اور عوام سری کرشن جی اور سری رام چندرجی کو خدا کا اوتار کہہ اُٹھے۔گرونانک صاحب کے تارک الدنیا اخلاق مجسم چیلے گرو صاحب کو اوتار بنا گئے۔پس ایسے واعظوں کے تعلیم یافتہ پیرؤوں کی یہ حالت کیوں ہوئی۔صرف اس لئے کہ مریدوں کی اپنے ہادی سے دلی محبت سابقہ بُت پرستی کی عادت سے مل کر نورِ ایمان اور عقلِ صحیح پر غالب آ گئی۔اور کوئی ایسی قومی روک ان کے ہادیوں نے نہیں رکھی تھی جس کے ذریعے توحیدِ خالص ان کے مشرکانہ طبائع کو فتح کر لیتی۔میں جب عیسائیوں اور ہندؤوں اور سکھوں کے مقدّس لوگوں کو شرک کرتے دیکھتا اور ان کی زبان سے سنتا ہوں کہ وہ کہتے ہیں۔ہمارے ہادی خدائے مجسّم اور اوتار تھے تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ بے شک یہ سچا سچے خدا کا کلام ہے۔ …(الاحزب ۴۱) تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے عملاً اور ان کی امّت نے حسبِ تعلیم اپنے ہادی کے اصولاً اقرارِ توحید کے ساتھ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗکے اقرار کو لازمی کیا ہے۔اس کلمہ کے ایزاد نے جو کچھ اثر دنیا پر دکھلایا۔وہ بالکل ظاہر ہے اور یہی اس کے منجانب اﷲ ہونے کی بڑی زبردست شہادت ہے۔ہندوستان کے ہادیوں نے ملک سے سکتے کی خطرناک پُوجا اور گنگ کی خلاف تہذیب پرستش کو کم نہ کیا۔اور یہود نے طرافیم کی پُوجا اس وقت تک نہ چھوڑی جب تک (النساء:۵۲)کی صدا عرب سے نہ سُنی۔نبی ناصری کی بڑی کوششوں اور محنتوں اور تکالیف بلکہ جافشانیوں کو میں کس کامیابی کا عنوان بناؤں۔جبکہ وہ آپ اور اس کی ماں دونوں معبود قرار دیئے گئے۔مسیحؑ تو عموماً تمام عیسائیوں کے معبود ہیں اور ان کی والدہ خصوصًا رومن کیتھولک کے یہاں پوجی جاتی ہیں۔