حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 414 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 414

لے پالک بنا ناشرع اسلام میں جائز نہیں۔تو آپ کا اعتراض کیونکر چسپاں ہو گا۔لے پالک بیٹا حقیقۃً بیٹا ہی نہیں اور اس کو بیٹا کہنا سچ نہیں اسی واسطے قرآن نے جو حقیقت کا کاشف ہے اسکو بیٹا کہنا جائز قرار نہیں دیا۔کیونکہ بیٹا باپ کی جزو ہوتا ہے۔اور لَے پالک غیر اور غیر کی نسل سے ہے۔مجھے ہمیشہ خیال آتا ہے کہ حقیقی علوم کا معلم نیوگ کو کیونکر جائز کر سکتا ہے۔کیونکہ نیوگی بیٹا نیوگ کنندہ کا نطفہ اور اسکا جزو ہوتا ہے۔نیوگ کنندہ اولاد کا لالچ دے کر لذّت و مزہ بھی اٹھا لے اور پھر اپنے بیرج کی اولاد کو دوسرے کے مال و دولت کا مالک بھی بنا لے اور آہستہ آہستہ جوڑ توڑ کر کے آخر عورت بھی اڑالے۔اور اپنا ہی بیٹا جائیداد کا مالک کر دے اور پھر عذر کر دے کہ یہ وید کا ارشاد ہے۔آہ۔کوئی سمجھنے والا ہو۔پھر اسلام میں لے پالک کی بیوی کیونکر ناجائز ہو گی۔جبکہ لے پالک بنانا ہی جائز نہیں۔پھر کسی دوسرے کی بی بی بدوںطلاق کے اور اس کی عدّت گزرنے سے پہلے جائز نہیں پھر بدون نکاح اور گواہوں بلکہ بلا رضامندی۔ان والیوں کی جو عورت کے مہتمم ہوں۔ہمارے مذہب میں کسی عورت کا بیاہنا جائز نہیں ہاں نیوگ میں یہ سب کچھ ہو سکتا ہے۔سو وہ ہمارے یہاں ممنوع اور آپ کے یہاں ضروری ہے۔سوچو اور غور کرو کہ اس خبیث الزام کا نشانہ وید کا مذہب ہے یا کوئی اور۔خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اسکا کلام قرآن کریم ہر قسم کے ناپاک