حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 413
کی طرح) مُتَبَنّٰی( منہ بولا بیٹا) صُلْبِی بیٹے کی مانند سمجھا جاتا تھا۔اس رسمِ قبیح سے جو نتائج فاسدہ دنیا میں ہوئے اور ہوتے ہیں عیاں ہیں،اور حقیقۃً قدرت کہاں اجازت دیتی ہے کہ پسرِ حقیقی اور متبنّٰی دونوں مساوات کا درجہ رکھیں۔قرآن نے اس مضر اصل کی بیخ کنی کر دی کہ ’’ منہ بولے بیٹے تمہارے بیٹے نہیں ہیں۔تمہارے بیٹے وہی ہیں جو تمہارے نطفے سے ہیں‘‘ اب یہاں قوم و ملک کے رسوم کے مخالف دو عظیم مشکلوں کا سامنا آپؐ کو کرنا پڑا۔ایک تو خدا کے قول و فعل کے مطابق رسمِ تبنیّت کا (کہ وہ حقیقی بیٹے کے مانند ہے) توڑنااور دوسرا ایک مطلّقہ عورت سے ( جس سے شادی کرنا عرب جاہلیت میں سخت قابلِ ملامت و نفرت اور ذلّت تصورّ کرتے تھے) نکاح کرنا۔مگر چونکہ عقلاً و رسماً و شرعاً یہ افعال معیوب نہ تھے۔اور ضرور تھا کہ مصلح و ہادی خود نظیر بنے تاکہ تابعین کو تحریک و ترغیب ہو۔آپ پہلے بے شک بمقتضائے بشریت گھبرائے اور بالآخر ان مشکلات پر غالب آ کر ایک عجیب نظیر قائم کر دکھلائی۔پادری صاحب کی عقل پرتعجب آتا ہے جو کہتے ہیں’’ محمد نے لوگوں سے ڈر کر آیت اتارلی‘‘ کون سی آیت اتارلی۔اور ڈر ہی کیا تھا۔آنحضرتؐ کو اس بات کا ڈر تھا اور لوگوں کی طرف سے خوف تھا کہ دشمن اس بات کا طعنہ دیں گے کہ ان کا اپنے ہاتھ سے کیا ہوا کام انجام کو نہ پہنچا۔کیونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم خود اس مزاوجت کے متکفل اور منصرم ہوئے تھے۔اور بڑے اصرار سے زینب کے وارثوں سے اس کو زید کیلئے مانگا تھا۔اور اب اس مفارقت پر دشمن طعنہ دے سکتے تھے۔بیشک اس بات کا آپؐ کو خوف تھا۔اور ان کی ناچاکی کو وہ اخفا کرنا چاہتے تھے۔جو بالآخر پھُوٹ نکلی۔اسی خوف و اخفا کی نسبت قرآن کریم فرماتا ہے کہ تُو لوگوں سے ڈرتا تھا حالانکہ ڈرنا تو مجھ سے چاہیئے۔یہ ایک عجیب محاورۂ قرآنی ہے۔مطلب ایسے جملے کا یہ ہوتا ہے کہ جو امر حسبِ مقتضائے قانونِ الہٰی ہو اس کے اجرا و تعمیل میں انسان سے ڈرنا یعنی اس کا عمل میںنہ لانا عبث ہے۔ناقص العقل پادری اتنا بھی خیال نہیں کر سکتے کہ اگر اس عقد میں کوئی امر معیوب اور قَادِحْ نبوّت ہوتا تو یقینا اوّل منکر زید ہوتا۔حال آنکہ بعد ازاں بہت دنوں تک اسلام اور سچّے ہادی کی خاطر بڑے بڑے معرکوں اور مہلکوں میں جاں نثاری کرتا رہا۔اور بڑے بڑے غیوّر جرّی صحابہ ( جو یقینا مچھوؤں اور باج گیروں سے بہت بڑھ کر وقعت وغیرت میں تھے) جو اسلام کے رکن رکین تھے۔بہت جلد ہاں اسی دم آپ کے پاس سے ٹوٹ پھوٹ جاتے اور یہ تانا بانادرہم برہم ہو جاتا۔میں سچّے دل سے کہتا ہوں کہ اس قصّے کا ہونا قرآن کے کلام اﷲ ہونے کا بڑا بھاری ثبوت ہے اور یہ نبی عرب کی ترکیب و آوردکا ( جیسے منکرین سمجھتے ہیں) کلام نہیں۔کیا امانت کا حق ادا کیا ہے۔کیا صادق امین ہے۔کہ تمام الہٰی واردات اور رباّنی الہامات و واقعات بلاکم و کاست دنیا کے آگے رکھ دیئے۔بِاَبِیْ اَنْتَ وَ اُمِّیْ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلّم۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل طبع دوم صفحہ۱۲۸ تا ۱۳۲)