حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 411 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 411

: نبی پر بے جا اعتراض کر کے قابلِ عذاب نہ ہوں۔یہ ڈر تھا۔حضرت موسٰیؑ کی نسبت بھی ارشاد ہوا کہ لَا تَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی(طٰہٰ:۶۹) یہ شکست کا ڈر نہ تھا بلکہ اس کا کہ لوگ مُرتد ہو کر ہلاک نہ ہو جاویں۔: یہ مراد نہیں کہ اﷲ ہی نے نکاح پڑھا دیا۔ظاہر میں کوئی بات نہیں ہوئی بایں وجوہات کہ نَا سے حسب محاورہ قرآنی وسائط کا پتہ ملتا ہے۔(ب) آپ نے ولیمہ کیا۔(ج) جب یہ ایک رسم مٹانے کیلئے تزویج ہوئی تو پھر نکاح ظاہر میں عَلٰی رؤوس الاشھاد کیوں نہ ہوتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍اکتوبر ۱۹۱۰ء) : لوگوں کے مبتلائے معاصی ہونے کا ڈر تھا کہ نافہمی سے ابتلاء میں نہ آجاویں وہ کہیں گے۔نبی نے ان کی شادی کی۔اب ان کی بن نہیں آتی۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۴ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ایک عیسائی کے اعتراض’’ محمد صاحب نے اپنے لے پالک کی جَورُوْ سے عشق کیا پھر لوگوں سے ڈرے تو ایک آیت اتارلی‘‘ جواب میں تحریر فرمایا معترض نے عشق کا ثبوت تو کوئی نہ دیا۔لوگوں سے ڈرنا مقتضائے بشریّت ہے۔حضرت مسیح بقول آپ کے باوجود الوہیت کے لوگوں(یہود) سے ڈرتے رہے۔اور حاکم کے سامنے حضرت سے کچھ بن نہ پڑا۔صُمٌّ وَ بُکْمٌ سے رہ گئے۔بھلا صاحبان جس صبح کو پکڑے گئے اس رات مسیح کی کیا حالت تھی۔(متی ۲۶ باب ۳۸ آیت) اگر لے پالک کی جورو سے شادی منع ہے۔تو اسکا ثبوت توریت یا انجیل یا شرعِ محمدیؐ (قرآن) سے یا دلائل عقلیہ سے دیا ہوتا۔بلکہ میں کہتا ہوں سارے عیسائی لے پالک بیٹے ہیں(نامۂ رومیاں ۸ باب ۵) تو اب کیا وہ باہمی عقد میں بہنوں سے نکاح کرتے ہیں، توریت میں بھی بہن سے نکاح حرام ہے۔اگر کہو۔وہاں حقیقی بہن مراد ہے تو کیا دینی بہن سے نکاح جائز ہے۔پولوس صاحب فرماتے ہیں’’ کیا ہمیں اختیار ہے کہ دینی بہن سے نکاح کر لیں‘‘(قرنتی ۹ باب ۵) ہم کہتے ہیں۔اسی طرح حقیقی بیٹے کی جو رو سے نکاح منع ہے نہ لے پالک کی جو رو سے۔مجھے اسوقت مولوی لطف اﷲ لکھنوی یاد آ گئے ان سے بھی ایک پادری صاحب نے مجمع عام میں یہی سوال کیا تھا۔آپ نے کیا خوب جواب دیا۔’’ سارے راستباز خدا کے فرزند ہیں۔تو یوسف نجّار بھی فرزند تھا۔پھر اس کی جورو سے خدا نے فرزند لیا۔پس اگراس کے رسول نے لے پالک کی بی بی مطلّقہ سے نکاح کیا۔تو کیا عیب ہے۔اگر جماع عیب ہے۔تو ا