حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 412
ایک عضو کی نسبت سارے سموچے خدا کے رحم میں ازراہ… چلا جانا اور پھر مجسّم بن کر نکل کر کھڑا ہونا تو شاید اور بھی معیوب ہو گا۔زید نے تو طلاق بھی دے ڈالی تھی۔یوسف سے تو کسی نے براء ت نامہ بھی نہ لیا ہاں شاید الوہیت اور رسالت میں یہی فرق ہو گا۔کہ اس میں طلاق کی ضرورت نہیں رہتی‘‘ کتبِ مقدسہ کے محاورات تمہیں تعجب انگیز معلوم نہیں ہوتے۔اے میری زوجہ۔اے میری بہن۔تیرا عشق کیا خوب ہے۔تیری محبت مَے سے کتنی زیادہ لذیذ ہے۔( غزل الغزلات ۴ باب ۱۰و ۵ باب ۱) حقیقی جواب: اصل قصّہ یوں ہے کہ زینب ایک بڑے خاندان کی عورت تھی۔آنحضرتؐ نے اپنے خادم زید کے لئے اس کے وارثوں کو ناطے کا پیغام دیا۔وہ اپنی عظمت او رشرافت شان کے خیال سے اوّل تو ناراض ہوئے پھر آخر کار راضی ہو گئے۔کچھ مدّت تو جوں تُوں کر کے بسر ہوئی۔آخر زید نے اس کی تعلّی اور طنزو تعریض سے تنگ آکر اس کے چھوڑ دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔چونکہ آپ بذاتِ مبارک اس شادی کے انصرام کے متکفّل ہوئے تھے۔اس لئے اس طلاق کے انجام اور اس کے مفاسد پر قومی د ستوروں اور حالات معاشرت ملکی کے لحاظ سے آپ کے دل میں کھٹکا پیداہوا۔اس میں شک نہیں کہ رخنہ جُو کفّار اور حیلہ طلب معاندین کو رسماً و عرفاًایسے موقع پر بہت ملامت وطنز کا قابو مل سکتا تھا۔اور آپ گوارا نہیں کر سکتے تھے کہ اس مفارقت اور معاشرتی ناچاقی کا حال مخالفین منکرین پر کھلنے پائے جو اُن کی زبان درازی اور تعریض کا باعث ہو۔اور نیز زینب کے وارثوں کا خیال ایک رسمی اور قومی خیال تھا۔جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے دل کو اور بھی مضطرب کرنے کا موجب ہو سکتا تھا۔بنا برآں آپؐ نے زید کو بہت روکا۔اور تلخی ٔمعاشرت پر صبر کرنے کی بہت نصیحت و ہدایت کی اور سخت الحاح و اصرار کیا کہ وہ اس ارادے سے باز آ جاوے۔مگر خدا کو ایک عظیم الشان کام پورا کرنا اور ایک خلافِ قدرت مضر معاشرت رسم کا توڑنا منظور تھا۔اس موقع پر قرآن کے الفاظ جن میں آنحضرتؐ کی دلی حالت کی تصویر کھینچی گئی ہے۔الہامی حقیقت پہچاننے والے منصف کے نزدیک قابلِ غور ہیں۔ ۔(الاحزاب:۳۸) خصوصًا آیت اَمْسِلٹْ: الخ ’’اپنی بی بی کو نگاہ رکھ اور اﷲ سے ڈر ‘‘ بہت غور کے قابل ہے ’’ خدا سے ڈر ‘‘یہ ایسے الفاظ ہیں کہ بازداشت اور زجرکیلئے اس سے زیادہ اور نہیں کہا جا سکتا۔عیسائیوں کی شوخی اور جرأت سخت قابلِ افسوس ہے کہ ’’ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اوپر ے دل سے زید کو منع کیا،( لائف آف محمدؐ از سرولیم میور صفحہ۲۲۸) معلوم نہیں صادق کے دل کے اظہار مافی الضمیر کا اور کیا طریق ہو سکتا ہے۔کسی سوسائٹی کے رسوم و آئین کی اصلاح میں اگر کسی مصلح کو تکالیف و زحمات اٹھانی پڑتی ہیں، تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو چند در چند صعوبات اٹھانی پڑتیں اور پڑنے والی تھیں جن کے در پیش عرب جیسی غیر مہذب اکھّڑ سوسائٹی کے خلافِ قدرت اور مضرِ معاشرت رسوم کا اصلاح کرنا تھا۔عرب میں ( ہندؤوں