حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 386
نمونے موجود ہیں۔ان کے حالات ہم تک پہنچے ہیں۔اسی منہاج پر ان کو پَرکھ لیا جائے کہ کس طرح غریب آدمی ان کے سلسلے میں شامل ہوتے ہیں۔اور آخر وہ ائمۃ الکفر پر غالب آتے ہیں۔اور ان کی تعلیم اصولی طور پر تمام اولیاء سابقین سے ملتی ہے۔جس طریق پر ایک راست باز کو مانا۔اسی طریق پر دوسرے کو مان لیں۔آخر انسان اپنی ماں کو بھی ولادت کے معاملہ میں صرف اسی کی شہادت پر راست باز یقین کرتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم ستمبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۳) : توریت کے دیکھنے۔قرآن کریم کے پڑھنے اور خدا تعالیٰ کے بار بار احسانات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے۔کہ انبیاء علیھم السلام کی تعلیم کیا پاک تعلیم تھی۔یرمیاہ نبی اپنی قوم کو ملامت کرتا ہے۔عرب کے لوگ ایسے ہیں کہ وہ اپنے جھُوٹے خداؤں کو نہیں چھوڑتے تم سچّے خداؤں کو چھوڑ بیٹھے ہو۔اس سے سبق ملتا ہے کہ عربوں کی یہ حالت تھی۔پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت سے کس طرح سچے خدا کو ماننا آپ کی ختمِ نبوّت کی صداقت پر دلیل ہے۔آپ ؐ کی کیا پاک زبان تھی۔عرب فتح کیا۔ایران بھی فتح کیا۔عرب بھی ایسا جو کبھی نہ فاتح نہ مفتوح تھا۔مِنْ لِّقِآئِہٖٖ: اس کتاب کلامِ مجید کے ملنے سے شک میں نہ ہو۔امام کس طرح بن سکتا ہے۔…الخ امام: بادشاہ کو! ہادی کو۔قوم کے بڑے آدمی کو۔مسجد کے ملّانوں کو بھی امام کہتے ہی۔امام بننے کے لئے تین طریق فرمائے۔اوّل: یَھْدُوْنَ: ہمارے حکم سناتے ہیں۔دوم: : لوگوں کے ایذاء پر صبر کرتے ہیں۔سوم: : یعنی اپنی کامیابی پر اور مخالف کی ہلاکت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔دنیا کے لوگ تین اقسام کے ہیں۔بڑے عظیم الشان لوگ جن کو تبلیغ کرنا ہر ایک کا کام نہیں۔ادنیٰ درجہ کے لوگ۔ان کو وعظ کی ضرورت نہیں۔وہ تابع حکمِ ملّاں ہوتے ہیں۔اوسط درجہ کے لوگ جن کو گاہے گاہے وعظ سننے کا موقع مل جاتا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے ہر ایک آدمی کے اندر اور اس کے ساتھ ایک واعظ رکھا ہوا ہے۔عظیم الشان لوگوں کے واسطے اﷲ تعالیٰ نے خاص قسم کا واعظ رکھا ہے جو خطرناک واعظ ہوتا ہے۔کیونکہ ان کے واسطے ہمسایہ کی تباہی کا نظارہ عبرتناک واعظ ہے۔؎ مجلس وعظ رفتنت ہوس است مرگِ ہمسایہ واعظِ تُو بس است