حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 385 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 385

۲۴،۲۵۔   : حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو یقینا موسٰی علیہ السّلام کا مثیل بنایا گیا ہے۔چنانچہ ان آیات سے بھی تصدیق ہوتی ہے۔ ۔(مزمل:۱۶) ۲۔ (احقاف:۱۱) شاہد انبیاء کی ذات ہوتی ہے۔۳۔۔(آل عمران:۷۴) تورات کے استثناء باب۵ ا۔آیت۔اعمال کے تین باب میں اسی مِثْلِیَّتْ کا ذکر ہے۔: اس کے معنے کئے گئے ہیں کہ موسٰی تجھے ملیں گے چنانچہ معراج میں ملاقات ہوئی۔مگر میرے نزدیک یہ معنے نہیں نکلتے۔مطلب یہی ہے کہ تم موسٰیؑ کے مثیل ہو۔تمام پیشگوئی کے واقعات اپنے اپنے وقت پر پورے ہوں گے۔: امام بننے کیلئے تین شرائط فرمائی ہیں۔۱۔یَھْدُوْنَ: ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کریں ۲۔ اپنے آپ کو بدیوں سے بچانے کیلئے باہمّت طعن و تشنیع سننے پر دلیر اور خدا کی بتائی ہوئی بات پر مستقل رہتے ہیں۔۳۔: اﷲ تعالیٰ کی آیات پر کامل یقین رکھتے ہیں۔۴۔چوتھی بات اس سے نکلتی ہے وہ یہ کہ وہ امام بننے کی خواہش نہیں رکھتے۔نہ اس کے منصوبوں میں رہتے ہیں۔: سے ظاہر ہے کہ امّتِ محمدیؐ میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جو خدا سے الہام پا کر ہادی و امام بنیں گے۔ایسے لوگوں کی شناخت کیلئے ہمارے واسطے کوئی اتنی مشکل نہیں کیونکہ پہلے اولیاء و انبیاء کے