حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 33
تجھ سے ذوالقرنین (دوسینگ والے) کی بابت پوچھتے ہیں۔تو کہہ میں ابھی اس کا قصّہ تمہیں سناتا ہوں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۶۵) (یہ) قصّہ کتاب دانیال کے ایک مشکل مقام کی تفسیر ہے۔سنئے۔دانیال کی کتاب میں جو بائبل کے مجموعہ میں ستائیسویںکتاب ہے۔اس کے آٹھ باب ۴ آیت میں حضرت دانیال نبی کا مکاشفہ ہے۔دانیال کی نبوّت اور اس کا مکاشفہ آپ کے نزدیک کیسا ہی ہو اور کچھ ہی وقعت کیوں نہ رکھے۔’’ الا یہود اور عیسائیوں میں جو قصّہ ذوالقرنین کے سائل اور مجیب کے مخاطب تھے۔‘‘ یہ مکاشفہ صحیح اور دانیال کی کتاب صحیح اور مسلّم ہے۔اور اس مکاشفہ میں یہ بات مندرج ہے۔’’ تب میں نے اپنی آنکھ اُٹھا کر نظر کی۔تو کیا دیکھتا ہوں کہ ندی کے آگے ایک مینڈھا کھڑاہے جس کے دو سینگ تھے۔اور وہ دو سینگ اونچے تھے۔اور ایک دوسرے سے بڑا تھا‘‘ پھر دانیال کو جبریل نے اُس مکاشفہ اور خواب کی تعبیر بتائی کہ ’’ مینڈھا جسے تُو نے دیکھا کہ اس کے دو سینگ ہیں سو وہ ماد اور فارس کی بادشاہت ہے‘‘ (دانیال ۸۔۲۰) قرآن نے اسی بادشاہ کا تذکرہ کیا اور نہایت راست اور صاف فرمایا ہے۔اس میں کوئی دور از قیاس بات مندرج نہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۶۵) جیسامیں نے کامل یقین سے بِلا کسی تردّد کے اصحابِ کہف کا ذکر کیا تھا کہ وہ کون ہیں۔اس سے بھی بڑھ چڑھ کر یقین کے ساتھ میں تمہیں ذوالقرنین کا حال سناتا ہوں۔ان آ یات میں یہود اور مجوسی دونوں کو ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔حضرت نبی کریمؐکی نبوّت کی مفصّل پیشگوئی بائیبل۔دانیال نبی کی کتاب میں ہے۔اس کے باب ۸ آیت ۴ کو ملاحظہ کرو۔اس میں دوسینگ والے ایک مینڈھے کا ذکر ہے جو پورب پچھّم میں اپنا سر مارتا تھا۔پھر ایک سینگ والا بکرا آیا ہے۔جس نے دوسینگ والے کو ٹکّر مار کر پاش پاش کر دیا۔اس کے بعد گیارہ سینگ والے کا ذکر ہے۔جس میں نبی کریمؐکی آمد آمد ہے۔یہ سب حضرت دانیال کا کشف تھا۔یہود نے اس کے متعلق سوال کیا تھا کہ دو سینگ والے بکرے کا جو ذکر توریت میں ہے اس کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل، ۵؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۱) : تجھ سے پوچھتے ہیں ذوالقرنین کو یہ وہی دو سینگ کا مینڈھا ہے جسے دانیال نے خواب میں دیکھا۔دیکھو دانیال ۸ باب ۴۔نبی عرب نے بتایا دو سینگ والا مینڈھا جسے دانیال نے خواب میں دیکھا۔وہ ایک بڑا بادشاہ ہے جس کا تسلط ایک خاص زمین کے مشرق اور مغرب میں ہوا۔