حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 32
قبطی کے قتل کے وقت اور ( بعد ازاں قارون کے قتل کے وقت) ایک جان کو بلاوجہ مار دیا تھا۔دراصل یہ بیان گونہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معراج کا ہے۔اس معراج میں وہ عبد بطور ایک فرشتے کے ساتھ تھے۔اور راہ کے خضر تھے۔اور یہ سب باتیں آئندہ واقعات کا بیان کرتی ہیں۔ان میں سمجھایا گیا کہ تمہیں ایک ظالم بادشاہ کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑے گا اور اس سے اور اس کے لشکر سے بچنے کے واسطے تمہیں دریا عبور کرنا پڑے گا اور پھر جنگ کرنی پڑے گی جس میںبہتوں کو قتل کرنا ہو گا۔دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ البرکات و السلام ایک صالح نبی تھے۔ان کے دو بیٹے تھے۔ایک بنی اسحاق۔ایک بنی اسمٰعیل۔حضرت ابراہیمؑ کے دین کو لوگوںنے جب خراب کر دیا تو وہ دیوار ان کی گرنے کو تھی۔اس کی حفاظت کے واسطے اﷲ تعالیٰ نے دو نبی بھیج دئے۔حضرت موسیٰ ؑ اور ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم۔یہ اس دیوار کو اٹھانے والے تھے اور اس طرح وہ پاک تعلیمات کا خزانہ محفوظ رہا۔اس واقعہ کے معراج ہونے کی اس بات سے بھی تائید ہوتی ہے کہ یہودیوں میں اب تک ایک پرانی کتاب چلی آتی ہے جسکا نام ہے معراجِ موسیٰ۔اس میں جس فرشتے کو حضرت موسیٰ کا رہبر بتلایا جاتا ہے اسی کا نام خضر لکھا ہے (دیکھو انسائیکلو پیڈیا ببلیکا۔حروف موسیٰ۔دایا کے پس) فائدہ: حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو بھی معراج میںآئندہ کے واقعات بتلائے گئے تھے۔مگر حضرت موسیٰ ؑ تو درمیان میں بول پڑے۔اس واسطے سلسلہ لمبا نہ چلا۔اور آنحضرت صلی اﷲعلیہ و آلہٖ وسلم نے صبر سے کام لیا۔اس واسطے بہت سے نظارہائے قدرت دیکھے۔نکتۂ معرفت: ان آیات میں جہاں کسی عیب کا ذکر ہے۔وہاں صیغہ واحد متکلّم کا استعمال کیا گیا ہے مثلاً اَرَدْتُ: میں نے ارادہ کیا اور جہاں عیب و صواب ملا ہے۔وہاں فرمایااَرَدْنَا۔اور جہاں بالکلخوبی ہی خوبی ہے۔وہاں کہا ہے۔اَرَادَرَبُّکَ۔تیرے رب نے ایسا ارادہ کیا ہے۔اس میں ایک طریقِ ادب سکھایا ہے۔حضرت ابراہیم ؑ کا بھی یہی طریقِ عمل ہے۔چنانچہ فرمایاِ(شعراء:۸۱) جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ اﷲ تعالیٰ مجھے شفاء دیتا ہے۔مرض کو اپنی طرف نسبت کی اور شفاء کو اﷲ تعالیٰ کی طرف۔یہ طریقِ ادب طریقِ انبیاء ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل، ۵؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۱) ۸۴۔