حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 34 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 34

…اس کا نام کیقباد بھی مشہور ہے جو مشرق اور مغرب میدیہ اور ایلام یعنی ایران و فارس کا مسیحؑ سے پانچ سو پینتیس سال پہلے میں مادی قوم کا بادشاہ تھا۔(فصل الخطاب (طبع دوم) حصّہ اوّل صفحہ ۱۷۳) قرن کے معنے شجاعت و قوت کے ہیں۔جانوروں کے سینگ کو بھی قرن اس لئے کہتے ہیں کہ وہ سینگ ان کی قوّت میں مدد دیتے ہیں۔مید و فارس کے بادشاہ چونکہ دو مملکتیں اپنے ماتحت رکھتے تھے اور بلاد کی ماتحتی سے بادشاہوں کو قوّت ہوتی ہے۔اس لئے ان کے بادشاہوں کو خصوصًا اُن کے پہلے بادشاہ کو ذوالقرنین کہا ہے۔دیکھو دانیال باب ۸ آیت۴۔اور اس کے ساتھ آٹھ باب کی آیت ۲۰۔جس میں تفصیل بیان کی ہے اور سکندر رومی کو دانیال کی کتاب میں ایک سینگ کا بکرا کہا ہے۔دیکھو دانیال باب ۸۔۶ اور آیت ۲۱ جس کا ترجمہ یہ ہے وہ بال والا بکرا یونان کا بادشاہ اور وہ بڑا سینگ جو اس کی آنکھوں کے درمیان ہے۔سو اس کا پہلا بادشاہ ہے۔یہ وہی میخوار سکندر ہے۔جس نے تمہارے ملک کو بھی زیر و زبر کر دیا تھا اور مکّہ معظمہ اس کی دست برد سے محفوظ رہا۔گو بد قسمت مسلمانوں کیلئے اس کے مشیرِ سلطنت ارسطو کی غلط منطق اور اس کا وہی فلسفہ اب تک نوجوانانِ اسلام کا برباد کن اور موجبِ جہالت ہو رہا ہے۔کاش وہ ردّالمنطقیین شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور تحریم المنطق امام سیوطی کو پڑھیں یا کم سے کم غور کریں کہ ان کو ایسی منطق سے دین و دنیا میں کیا مل رہا ہے جس کو پڑھتے ہیں۔غرض اس میدوفارس کے بادشاہوں سے پہلے اس بادشاہ نے اپنی حفاظت کے لئے بہت سی تدبیریں کیں…اس نے دُور دراز ملکوں کا سفر کیا اور ملک کی دیکھ بھال کی۔اس کے مغرب کی طرف اس وقت دلدلی کنارہ ہائے بحیرہ خضرہ تھیں۔اس وقت جہازرانی کا پورا سامان کہاں تھا اور کناروں پر ایسے عمدہ گھاٹ کہاں تھے۔جیسے اب روز بروز ہوتے چلے جاتے ہیں۔ہاں تم لوگوں کا احمقانہ خیال ہے کہ پُرانے زمانہ میں ہی سٹیمرتار و ریل وغیرہ فنون تھے۔اور ان کے مُوجد آریہ ورتی تھے۔جس لفظ کا ترجمہ تم نے ’’ جا کر دیکھا‘‘ کیا ہے۔وہ لفظ وَجَدَھَا تَغْرُبُ ہے۔اس کے معنے ہیں اس نے سورج کو ایسا معلوم کیا اور اس کی آنکھ سے ایسا معلوم ہوا کہ وہ دلدل میں ڈوبتا ہے۔اب سوچو یہ لفظ ایسا صاف ہے کہ اس میں ذرا اعتراض کا موقع نہیں۔اس نظارہ کو ہر شخص ہر روز اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ سورج اُسے اگر جنگل میں ہو تو درختوں میں ڈوبتا نظر آتا ہے۔اور اگر سمندر میں ہو تو پانی سے نکلتا اور آخر پانی میں ہی ڈوبتا نظر آتا ہے۔ایسے بدیہی نظاروں پر اعتراض کرنا سوائے اندھے کے اور کس کا کام ہے۔ایک قابلِ قدر لطیفہ اور باریک نکتہ: اَلْقَرْنُ مِنَ الْقَوْمِ سَیَّدُھُمْ۔قرن