حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 353
:جیسے سے سُبْحَانَکَ اَللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ پڑھنے کا ارشاد معلوم ہوتا ہے۔ایسا ہی نماز میں پڑھنے کا حکم ہے۔: اَچھُّوں سے بُرے اور بُروں سے اچھے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔: مٹی میں بیج بوتے ہیں۔کھیتیاں پکتی ہیں۔وہ کھاتے ہیں۔خون پیدا ہوتا ہے پھر نطفہ۔پھر انسان۔: تمہاری جنس سے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۸) لِتَسْکُنُؤٓا : یاد رکھو بیبیاں اس لئے ہیں کہ ان سے آرام پاؤ۔بہت بدبخت ہیں وہ جو بی بی کو دُکھ سمجھیں۔مَوَدَّۃً: ان کے ذریعے دو مختلف خاندانوں میں باہمی محبت بڑھتی ہے۔: بی بی پر رحم کرو۔وہ تمہارے مقابل میں بہت کمزور ہے۔لطیف پیرائے میں ادب سکھاؤ۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۸) لِتَسْکُنُؤٓا : بیاہ کے بعد اگر خدا چاہے تو انسان کو آرام ملتا ہے۔انسان کی آنکھ، کان ،ناک وغیرہ بدی کی طرف راغب نہیں ہوتے۔سکونِ قلب حاصل ہو جاتا ہے۔نکاح آرام کیلئے ہوتا ہے بے آرامی کیلئے نہیں ہوتا۔میں نے خود کئی بیاہ کئے۔ہر بیاہ میں مجھے بڑا آرام ملا۔(بدر حصّہ دوم ۵؍دسمبر ۱۹۱۲ء صفحہ۸۹ کلامِ امیر) ہندوستان میں لوگ عورتوں کو فرائض شادی و نکاح کے علم نہیں سکھاتے۔یہاں تک کہ حیض و نفاس تک کے امراض کی عورتوں کو خبر نہیں ہوتی کہ یہ کیا بلاء ہے۔اور کس بلاء کا نام ہے۔تعلیم و تربیت عورتوں کی بہت کم رہ گئی ہے۔مرد چاہتا ہے کہ جیسا کہ میں نے ہومر و شیکسپئیر اور اَور لوگوں کے ناول پڑھے ہوئے ہیں۔میری بیوی بھی ایسی ہی ہو۔اور ایسے ہی ناز و نخر ے میری عورت کو بھی آتے ہوں جیسے کہ اکثر ناولوں میں پڑھ چکا ہوں۔ہمارے مولیٰ کو چونکہ یہ سب باتیں معلوم تھیں۔اس لئے اس نے فرمایا ہے یعنی شادی سے تم کو بڑا آرام ہو گا اور چونکہ عورتیں بہت نازک ہوتی ہیں اس لئے اﷲ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان سے ہمیشہ رحم و ترس سے کام لیا جاوے اور ان سے خوش خلقی اور حلیمی برتی جاوے مجھے پنجاب و ہند کی عورتوں پر خاص کر ترس آتا ہے کہ یہ بیچاری ہر ایک کام سے ناواقفیت رکھتی ہیں