حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 352
پھر اس مٹی غیر مدرک۔غیر متحرک سے انسان کی بقائے نوع اور اس کے آرام کیلئے اُسی کی جنس کی بی بی بنائی۔اور اپنے اس ارادہ کو جو دونوں کے باہمی تعلّق کی نسبت تھا۔غور کرو۔کن پیارے پیارے الفاظ میں بیان فرمایا۔ ۔۔اور اس کے نشانوں سے ہے کہ تم ہی میں سے تمہارے واسطے جوڑا بنایا تاکہ تم اس سے آرام پکڑو اور تمہارے درمیان دوستی اور رحمت ڈال دی۔یقینا اس میں سوچنے والوں کے واسطے نشانیاں ہیں پھر انسانی صفات کی طرف انسانی فطرت کو توجّہ دلاتا اور فرماتا ہے۔ ۔اور اس کے نشانوں سے ہے پیدا کرنا آسمانوں اور زمین کا اور اختلاف تمہاری بولیوں اور تمہارے رنگوں کا۔یقینا اس میں عالموں کیلئے نشانیاں ہیں۔مگر یاد رہے۔انسانی صفات ایک تقسیم میں دو قسم ہوا کرتے ہیں۔ایک قسم انسان کے اعراضِ لازمہ اور دوسری قسم انسان کے اعراضِ مفارقہ۔انسان کے اعراض لازمہ میں اسکی رنگت۔بول چال۔اشکال و خطوط ہیں۔ان ترابی ذرّات سے مختلف انسان اگر ایک ہی رنگت ایک ہی آواز۔ایک ہی بول چال۔ایک قسم کی اشاکل اور خطوط رکھتے۔تو کیا ہم دوست کو دشمن سے ممتاز کر لیتے؟ کیا رات میں بلکہ دن میں کچھ اپنے اور پرائے کا تفرقہ کر سکتے؟ ہرگز ہرگز نہیں ! پس جس غالب طاقت نے یہ تفرقہ کر دیا وہ معدوم نہیں۔بلکہ وہ موجود اور اس قابل ہے کہ اس کی نسبت کہیں ۔۔اور انسانی شخص کے اعراضِ مفارقہ میں سونا اور جاگنا۔حرکت۔سکون۔کمانا۔وغیرہ وغیرہ ہیں جن کی طرف اشارہ فرماتا ہے۔ ۔اور اس کے نشانوں سے تمہارا رات کو سونا اور دن کو اس کے فضل کو تلاش کرنا۔یقینا اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کیلئے۔