حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 31
۷۹۔ تَاْوِیْلِِ: حقیقت (ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۷،۲۴مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۱) ۸۰۔ : فقراء و مساکین میں فرق ہے۔فقیر کا ترجمہ محتاج۔محتاجی کی کئی قسم ہیں۔مثلاً روٹی نہیں۔سرما میں لحاف نہیں۔خرچ کم ہو گیا۔وہ چاہے خواہ گھر میں امیر ہی ہو۔باقی رہا مسکین : قابل ترقی آدمی ہے۔ترقی کا سامان نہیں۔مثلاً جلد سازی جانتا ہے۔سامان نہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۵ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۸۱۔ : ان دونوں کے ذمّے مَڑھ دے۔اس بیان میں تین باتوں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اعتراض کیا ہے۔۱۔کشتی کے توڑنے پر ۲۔لڑکے کے قتل پر۔۳۔بے مزدوری لینے کے دیوار بنانے پر۔حالانکہ یہ ہرسِہ واقعات خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کے گھر میں ہو چکے ہیں۔َ(کہف:۷۲)کا اگر کوئی خوف تھا تو کیا موسیٰ کی ماں نے خود موسیٰ ؑکو دریا میں نہیں بہا دیا تھا۔کیا دریا میں بہا دینے سے حضرت موسیٰ ؑ غرق ہو گئے تھے۔اس کے بعد فرعون کے وقت خود حضرت موسیٰ ؑ نے ساری قوم کو دریا میں ڈال دیا تھا۔جہاں بظاہر غرقِ آب ہو جانے کا خوف تھا۔ایسا ہی حضرت موسیٰ ؑ نے مدیَن میں کنویں پر عورتوں کے ( مویشیوں ) کو پانی پلایا اور بغیر کسی مزدوری لینے کے خود ہی ان کا کام کر دیا پھر