حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 26
کہ جس موقع کی کلام ہو وہاں کی آب و ہوا اور اس قوم کی عادات اور حالات اور وہاں کے جغرافیے کا مفسّر کوصحیح علم ہو۔ورنہ آئندہ آنے والی نسلوں کے واسطے ایک ابتلاء انگیز غلطی کا اندیشہ اس مفسر کے بیان سے لگ جانے کا احتمال ہے۔مثلاً ایک کتاب صدائق العشاق میں لکھا ہے کہ ایک شخص جہاز پر سوار تھا۔کارِ قضاء جہاز ڈوب گیا۔وہ شخص ایک تختہ پر چمٹا رہا۔اور تختہ رفتہ رفتہ کشمیر میں جا لگا۔آج جغرافیہ دان اس بات کو سمجھ سکتے ہیںکہ سمندر میں جہاز کہاں اور کشمیر کہاں۔ایسا ہی اس رکوع میں مجمع البحرین کے متعلق بھی بعض نے لکھا ہے کہ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں روم اور فارس کے دریا ملتے ہیں۔حالانکہ ایسی کوئی جگہ ان ممالک میں نہیں۔جہاں تک میں نے اس معاملہ میں غور کیا ہے۔مجمع البحرین یا تو وہ مقام ہے جہاں نیل ازرق اورنیل ابیض باہم ملتے ہیں۔مصر میں ایک شہر خرطوم نام مشہور ہے۔اس کے قریب ایک جگہ سنار نام ہے۔یہاں دریائے نیل کی دوشاخیں ملتی ہیں۔اسی مقام کا نام مجمع البحرین ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قیام فرعون کے ساتھ جنگ کرنے سے پہلے مصر میں ہی تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کسی نے پوچھا تھا کہ ھَلْ اَعْظَمُ مِنْکَ ؟کیا تجھ سے بڑا بھی کوئی آدمی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایاکہ ایک ہے۔اس پر حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کی کہ کَیْفَ لِیَ الْسَبِیْلِ اِلٰی لقیّہ ؟اس سے ملاقات کی کیا راہ ہے۔حکم ہوا کہ ایک مچھلی لے لو۔اپنے جوان مخلص یوشع کو ساتھ لیا اور حکم تھا۔جہاں مچھلی گم ہو گی وہاں وہ ملے گا۔یہ ایک نشانی تھی۔: نہیں ٹلوں گا۔نہ رکوں گا۔: اس لفظ حقبہ کے تین معنے آئے ہیں۔اس ایک۱ برس۔ستّر۷۰برس۔اسّی۸۰برس۔مدّت دراز پر بھی بولتے ہیں۔صوفیاء نے اس سے ایک نکتہ نکالا ہے۔کہ ایک ہی مدرسہ میں پڑھنے سے انسان کے خیالات میں وسعت نہیں ہوتی۔میں بھی پسند کرتا ہوں۔کہ آدمی چل پھر کر دیکھے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔علمِ حدیث کے پڑھنے سے بھی بہت سے دینی معلومات بڑھتے ہیں اور مختلف مشائخ کی صحبت سے اس کے فہم میں مد دملتی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۷،۲۴مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۹ ) : مجوسی مخاطب ہیں سلطنتیں دو بڑی ہیں۔حضرت موسیٰ کے وقت کیانی۔حضرت نبی کریمؐ کے وقت ساسانی تھے۔دانیال نبی کی پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا ہے۔دو۲ سینگوں والا مینڈھا۔: نیل ابیض ، نیل ازرق مراد ہو سکتے ہیں۔خرطوم پر۔میرے نزدیک وہ اصل