حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 27
مراد ہے۔جہاں دین و دنیا کی بہتری تھی۔یہ معراج ہے حضرت موسیٰ کا۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۵ ماہ ستمبر۱۹۱۳ء) ۶۲۔ : دونوں سے نسبت کی ہے۔حالانکہ مچھلی صرف یوشع کے پاس تھی۔عربی میں ایسا آ جاتا ہے۔جیسا کہ (تحریم:۵) قَلْبَاکُمَا نہیں فرمایا۔: چلا جانا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۷،۲۴مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ۱۵۹ ) بھُونی مچھلی کا پتہ قرآن میں نہیں۔اور نہ احادیثِ صحیحہ میں اور نہ ہمارا عقیدہ ہے کہ بھُونی مچھلی زندہ ہو جاوے۔اس قصّہ میں تین واقعات کا ذکر ہے۔جو خود موسٰی علیہ السلام کے کاموں کے قریب قریب تھے قرآن کریم میں ہے۔ …جب وہ ملنے کے موقع پر پہنچے۔مچھلی کو بھول گئے۔بتاؤ اس میں بھُونی ہوئی مچھلی اور اس کی زندگی کا ذکر کہاں ہے … اس میں تو اتنا ہی ذکر ہے کہ مچھلی ان کی یادسے اُتر گئی اور ندی میں چلی گئی۔اور یہ ان کیلئے مقرّر نشان تھا کہ جہاں اُن میں مچھلی کے بھُول جانے کا واقعہ پیش آئے گا وہاںوہ مردِ خدا انہیں ملے گا۔سو ایسا ہی ہوا خدا تعالیٰ نے جو غیب سے انہیں ایک نشان دیا تھا۔وہ پورا ہوا۔یہ ایسے واقعات ہیں جو مردانِ خدا کی سوانح زندگی میں ملتے ہیں اور یہ ایسے واقعات ہیں کہ اُن سے سالکانِ منازلِ الہٰیہ کے قلوب و ایمان تازہ ہوتے ہیں۔(نورالدّین طبع سومصفحہ۱۷۵) ۶۳۔ : ایک بات سے دوسری بات یاد آتی ہے۔کھانے سے مچھلی کا خیال آیا۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۵ ماہ ستمبر۱۹۱۳ء)