حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 247 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 247

کسی کے نام اس کے دوست کی چٹّھی آ جائے یا کسی حاکم کا پروانہ تو وہ شخص خواہ خواندہ ہو یا ناخواندہ سب کام چھوڑ چھاڑ کر پہلے اسے پڑھا کر سُنتا ہے اور پھر اس پر عمل کرتا ہے۔تجارتی معاملات میں بعض اوقات ایک چٹّھی کی اتنی قدر ہوتی ہے کہ اس کے سب سے پہلے حاصل کرنے کیلئے کئی سو روپے خرچ کر دیتے ہیں۔پھر باوجود کئی خطرات کے۔مثلاً ممکن ہے جس جگہ سے مال کی زیادہ بِکری کی خبر آئی وہاں کوئی اور سودا گر پہنچ گیا ہو یا رستہ میں اس کا مال ہی ضائع ہو جائے۔وہ اس مقام پر خود یا اپنا مال پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔مگر کس قدر تعجّب کی بات ہے کہ حُسن و احسان کے سر چشمے احکم الحاکمین ارحم الرّاحمین کی چٹھی ہو اور چٹھی رساں حضرت سیدنا محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جیسا جلیل القدر خاتم کمالاتِ نبوّت۔خاتم کمالاتِ انسانیت انسان ہو اور پھر ایک مسلمان اس کی پرواہ نہ کرے۔قرآنِ مجید ان میں ہو مگر محض اس لئے کہ گھر کے طاقچہ میں پڑا رہے۔اور نیچے سے وباء کے دنوں میں مال مویشی گزار دیں۔یا اسکی کوئی آیت لکھ کر گھول کر کسی بیمار کو پلا دیں۔عدالت میں جھوٹا حلف اٹھانا ہو تو اسے ہاتھ میں لے لیں اور اسے یاد کریں تو محض اس لئے کہ رمضان شریف میں تراویح میں سنائیں گے تو چند روپے مِل جائیں گے۔یا حافظ کہلائیں گے تو کابل میں محصول سے بچ جائیں گے۔افسوس ہے ان خیالات کے لوگوں پر کہ ملازمت کے حصول کے لئے کس قدر تکالیف اپنے اوپر اٹھاتے ہیں۔چودہ برس تک بی۔اے۔ایم۔اے بننے کے واسطے پڑھتے ہیں۔مدرسہ کی فیسوں اور دیگر اخراجات میں گھر کا اثاثہ تک بِک جاتا ہے پھر یہ بھی یقین نہیں کہ پاس ہوں گے یا فیل۔اور پاس ہو کر ملازمت ملے لگی یا نہیں۔لیکن نہیں پڑھتے تو قرآن مجید۔نہیں سمجھتے تو قرآنِ مجید۔نہیں عمل کرتے تو قرآنِ مجید پر جس کے پڑھنے اور جس پر عمل کرنے سے یقیناً دنیا و آخرت میں سُکھ اور آرام کی زندگی ملتی ہے۔اور بیشمار نمونے موجود ہیں جنہوں نے قرآن پر عمل کر کے دنیا کی سلطنتیں بھی پائیں اور آخرت میں اپنا گھر جنت الفردوس بنایا۔مبارک وہ جو اس دردمند دِل کی تقریر کو پڑھ کر قرآنِ مجید کی طرف توجّہ کرے۔( تشحیذالاذھان جلد۶ نمبر۱۱ صفحہ ۴۳۸،۴۳۹) میں اپنے تجربہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ قرآن شریف سے بڑھ کر راحت بخش کوئی کتاب اور اس کا مطالعہ نہیں ہے۔مگر آہ! دردِ دل سے کہتا ہوں۔اسی راحت بخش کتاب کو آج چھوڑ دیا گیا ہے۔ اے میرے رب بے شک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا ہے۔مجھے قرآن اس قدر محبوب ہے کہ میں بار بار اس کا تذکرہ کرنا۔اس کا پیارا نام لینا اپنی غذا سمجھتا ہوں اور اسی دُھن اور لَوْ میں ابھی