حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 246
۲۸۔ اور جس دن کاٹ کاٹ کھاوے گا گنہگار اپنے ہاتھ۔کہے گا۔کسی طرح میں نے پکڑی ہوتی رسول کے ساتھ راہ۔اے خرابی میری کہیں نہ پکڑی ہوتی میںنے فلانے کی دوستی۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ۱۶۰) ۲۹۔ : کئی دوست بُری ترغیبیں دے کر جہنم کی راہ دکھاتے ہیں۔ان سے بچو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۴؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۵) ۳۱۔ : ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم اسلام کے تنزّل کی یہی وجہ خدا کے حضور بیان فرما ویں گے کہ اسلامیوں نے عملی طور پر قرآن شریف کو چھوڑ دیا۔مثلاً قرآن نے ایک قاعدہ بتایا ہے۔(ابراہیم:۸) بہت لوگ ہیں جو اس کے خلاف عمل کرتے ہیں۔مجھے ایک دفعہ ایک عورت نے ایک دھیلا دیا۔میں نے شکر کیا کہ یہی پیسہ خدا کے نام دے دوں تو خدا تعالیٰ ایک دانہ کی کئی بالیاں اور سات سات سو دانے بنانے والا ہے۔اور اگر اپنے علم کے مطابق دوائی بنا لوں تو دس ہزار غریب کے کام آئے۔اور اس شُکر سے بہت نفع اٹھایا۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم میں شکر کی رُوح تھی۔جو کپڑا مل گیا۔پہن لیا۔مگر بعض لوگ ہیں کہ وہ خدا کی نعمت پر شُکر نہیں کرتے۔اور پھر ساری عمر دُکھ میں رہتے ہیں۔ایک شخص کو میں نے تین ہزار روپیہ دیا۔اس نے کہا کہ اس سے میرا کیا بنتا ہے؟ میں نہ کہا۔کہ یہ کُفرِ نعمت ہے! واقعہ میں کچھ نہ بنے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔کہ وہ سب روپیہ برباد ہو گیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۴؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۵)