حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 248
تک میں نے اس مضمون پر جو میں نے شروع کیا تھا کچھ بھی نہیں کہہ سکا۔یہی وجہ ہے کہ بعض آدمی میرے اس قسم کے طرزِ بیان کو پسند نہ کرتے ہوں۔مگر میں کیا کروں۔میں مجبور ہوں۔اپنے عشق کی وجہ سے بار بار اپنے محبوب کے تذکرہ سے ایک لذّت ملتی ہے۔کہے جاتا ہوں۔(الحکم ۱۰؍اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ۱۷) ۳۶۔ : بوجھ اٹھانے والا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۴؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۵) ۳۹۔ : میں نے اس کے متعلق بہت تحقیقات کی ہے۔کوئی کتاب ان کے حالات کی نہیں ملی۔ہاں قرآنِ مجید میں تدبّر کرنے سے یہ معلوم ہوا کہ اس سے مراد یوسفؑ کو کنوئیںمیں ڈالنے والے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۴؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۵) ۴۲۔۴۳۔ اور جہاں تجھ کو دیکھا۔کچھ کام نہیں تجھ سے مگر ٹھٹھے کرتے۔کیا یہی ہے جس کو بھیجا اﷲ نے پیغام دے کر۔یہ تو لگا ہی تھا کہ بچلاوے ہم کو ہمارے ٹھاکروں سے۔کبھی ہم نہ ثابت