حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 215 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 215

ہیں کہ سر پر سے منہ کے سامنے گھونگٹ لٹکا کر گردن تک اس گھونگٹ کو لٹکا لو۔پھر نظر بھی ضرور نیچے رہے گی۔: اس ھِنَّ سے ظاہر ہے کہ ہر مذہب کی عام عورتوں کو اجازت اندر آنے کی نہیں میں نے اس کے بڑے بڑے فساد دیکھے ہیں۔(ضمیمہ اخباربدر قادیان ۷؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۲) ۳۳۔  اور نکاح کردو اپنی بیوہ عورتوں کو اور اپنے نیک غلاموں اور لونڈیوں کو اگر غریب و مفلس ہیں تو اﷲ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے غنی کرے گا۔اور اﷲ تعالیٰ بڑی وسعت والا۔بڑے علم والا ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۷۲) لَا تُکْرِھُوْا: رنڈیاں نہ بناؤ۔رسمِ متعہ کا استیصال ہے۔(ضمیمہ اخباربدر قادیان ۷؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۲) یعنی اپنے میں سے بیوہ عورتوں اور قابل اور لائق لونڈوں اور لونڈیوں کا نکاح کر دو۔اگر وہ مفلس ہوں اور اس خوف سے نکاح نہ کریں تو اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا۔اس آیت کریمہ کے پہلے بدکاریوں سے بچنے کا وعظ ہے اور تاکید ہے کہ بدوں اجازت صاحبِ خانہ کسی کے گھر مت جاؤ۔اپنی نگاہیں نیچی رکھو۔پھر یہ حکم دیا ہے کہ بے بیا ہے مردوں اور عورتوں اور اپنے اچھے غلاموں۔داسوں اور لونڈوں کا باذن ان کے والیوں کے بیاہ کر دو۔دیکھ کیساپاک اصل ہے اور پاک حکم ہے کہ اپنے لڑکوں لڑکیوں کا بیاہ تو کرتے ہو۔داسوں اور داسیوں کے بیاہ بھی کر دو نیز شرع اسلام میں غلاموں اور لونڈے کیلئے گھر میں آنے جانے کی اجازت ہے۔اور ان سے پردہ نہیں۔اب اگر ان کی شادی نہ کی جاوے تو آخر گھروں میں بدکاریوں کے مرتکب ہوں گے۔پس ضرور ہوا کہ ان کی شادیاں کر دی جاویں کیونکہ آخر وہ بھی ہمارے ہی بچّے بچّیاں ہیں۔اور بتایا ہے کہ وہ قابلِ شادی ہوں۔اور شادی کی صلاحیت ان میں ہو تو ان کی شادی کرو۔علی العموم شادی شدہ انسان کاہل و سُست نہیں رہ سکتا۔نیز تعلقات کے باعث اس کے اخلاق میں بہت اصلاح ہو جاتی ہے۔اور بی بی۔بچوں۔بیبیوں کے کُنبہ