حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 214 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 214

    ایسے ہی ایمان والی عورتوں سے بھی کہہ دے کہ آنکھوں کو بُرائی سے بچا رکھیں اور شرمگاہوں کی حفاظت رکھیں اور اپنے بناؤ سنگار کو مت دکھلاویں مگر وہ حصّہ لابُدی ہے جو ظاہر ہے۔اور اوڑھنی کو ایسا اوڑھیں کہ جیب تک چھپ جاوے اور عورتیں اپنے بناؤ سنگار کو کسی پر ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں اور باپوں اور خسر اور اپنے بیٹوں اور خاوند کے بیٹوں اور اپنے بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنی نیک بخت بیبیوں ( عیسائی مشن کی عورتوں کو جو لوگ اپنے گھروں میں آنے دیتے ہیں اور اسلام کے مدعی ہیں وہ غور کریں) اور غلاموں اور ان نوکروں پر جنہیں عورتوں کی رغبت ہی نہیں ( جیسے پاگل) اور بچوں پر جو عورتوں کے معاملات سے واقف ہی نہیں۔اور عورتوں کو واجب ہے کہ ایسی طرح پاؤں زمین پر نہ ماریں کہ ان کے کسی سنگار کی کسی کو خبر ہو جاوے۔اﷲ کی طرف رجوع رکھو۔ایمان والو! تو کہ نجات پاؤ۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۷۱،۲۷۲) : (الآیہ)۔کہ اپنی آنکھیں نیچی رکھیں۔شرمگاہوں کو محفوظ رکھیں اور اپنی زینت کو نہ دکھاویں سوائے خاوندوں اور باپوں وغیرہ کے اور سوائے اپنی خاص عورتوں کے۔اس پر بھی مجھے حیرت ہے کہ بہت کم عمل ہے۔بہت سی عورتوں سے بھی پردہ لازم ہے۔ہر ایک عورت سے بے پردگی نہ ہو۔(الحکم ۳۱جولائی ؍۱۰ اگست ۱۹۰۴ء صفحہ۹) : قد۔آواز (تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۶۹) : عرب میں ناک کیلئے کوئی زیور نہیں۔اسی واسطے ہماری شریعت میں ناک کے زیور کا ذکر نہیں۔: اوڑھنیوں کے گریبان پر ڈالنے کے یہ معنے