حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 216 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 216

اور تمام وسیع متعلقوں سے اسے بہت کچھ اخلاق سے کام لینا پڑے گا…… غلام اور لونڈیاں اور بے بیا ہے مرد و عورت جن کو شہوت کے اسباب و ہتھیار دئے گئے ہیں۔غریبی کے باعث اگر بیاہ نہ کریں تو اﷲ تعالیٰ کے دیئے ہوئے اور اس کے پیدا کردہ اعضاء شہوت کے متعلق کیا یقین کریں کہ ہم غریبوں کو یہ سامان حکیم خدا نے نعوذ باﷲ نادانی اور ناعاقبت اندیشی سے دیا ہے۔(نورالدّین طبع ثالث صفحہ۲۲۴) لونڈیوںکی تعلیم و تربیت چونکہ بڑی ضروری ہے اس واسطے شریعتِ اسلام نے یہ تجویز کیا کہ گھر میں بچوں کی طرح ان کی تربیت کرو۔اگر مسلمان اس کے خلاف کرتے ہیں تو شرع کے خلاف کرتے ہیں حکم تو یہی ہے۔مَنْ اَدَّبَھَا وَأَحْسنَ تَادِیْبَھَا۔اور عَبِیْدُکم۔اِخْوَانُکُمْ وغیرہ وغیرہ بلکہ لونڈیوں کے نکاح میں تو ایسی رعائتیں رکھی ہیں۔ ہاں جس شخص کو لونڈی سے بیاہ کرنا ہو اس کیلئے قرآن مجیدنے کچھ شرطیں لگائی ہیں۔جیسے( النساء:۲۶) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لونڈیوں کے بیاہ خود کرنا علی العموم شریعت کو پسند نہیں۔اور تجربہ سے ثابت ہوا کہ شاہانِ اسلام کے گھر میں لونڈیوں کی اولاد سے ہی سلطنت تباہ ہوئی۔(الحکم ۳۱؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ۴) بعض عورتیں قسم قسم کے دُکھوں میں مبتلا ہو جاتیں اور عورتیں ان کو طعنہ یا ملامت کرتی ہیں ایسی عورتیں بڑی بدطینت ہوتی ہیں۔مثلاً اگر بیوہ کو نکاح کرنا موجبِ ملامت ہے تو جناب خدیجہؓ کے نبی کریمؐ تیسرے خاوند تھے۔پس ایسی طاعن کس کو طعنہ دیتی ہے۔بلکہ نبی کریمؐ کی ساری بیبیوں میں سے صرف حضرت عائشہ صدیقہؓ کنواری تھیں۔(الحکم۱۰؍اِگست ۱۹۰۴ء صفحہ۹) ۳۶۔