حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 176
اس رکوع میں فتح کا بیان ہے۔جب تک انسان کی مساعی میں اﷲ کا فضل شاملِ حال نہ ہو فتح کا حاصل ہونا ممکن نہیں۔: کسی سے فیض حاصل کرنے میںپہلی یہی بات سدِّ راہ ہو جاتی ہے۔اِلَّا: آجکل کے فیلسوف بھی راستبازوں کو یہی کہتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍جولائی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۹) یہ آیتیں جو میں نے تم کو سنائی ہیں۔یہ اس شخص کا قصّہ ہے جو دنیا میں اصلاح النَّاس کیلئے بھیجا گیا تھا۔اس کا نام نُوح ہے علیہ الصلوٰۃ و السلام۔وہ ایک پہلا انسان ہے جو لوگوں کو آگاہ اور بیدار کرنے کے واسطے غفلت کے زمانہ میں آیا تھا۔وہ ایک خطرناک ظلمت اور تاریکی کے دنوں میں نور اور ہدایت لے کر آیا تھا۔یہ اسٹوریاں۔کہانیاں۔اور دل خوش کُن قصّے نہیں بلکہ عِبْرۃً لِّاُ ولِی الْاَبْصَارِصداقتیں ہیں۔ان اہلِ نظر کیلئے جن میں تذکرہ کا مادہ ہوتا ہے جو فہم و فراست سے حصّہ رکھتے ہیں ان قصص میں بڑے بڑے مفید اور سُود مند نصائح ہوتے ہیں۔میں نے بجائے خود ان قصص سے بہت بڑا فائدہ اٹھایا ہے۔ان میں یہ عظیم الشان قصّہ قابلِ غور ہے۔اس کے کتنے وجوہ ہیں۔اوّل: کسی مامور من اﷲ کی کیونکر شناخت کر سکتے ہیں۔دوم: مامور من اﷲ کیا پیش کرتے ہیں یا یوں کہو کہ وہ کیا تعلیم لے کر آتے ہیں۔یا یہ کہو کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور سے کس غرض کیلئے مامور ہو کر آتے ہیں۔