حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 177 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 177

سوم: لوگ ان پر کس کس قسم کے اعتراض کرتے ہیں۔یہ امور اس لئے پیش کئے ہیں تا کسی راستباز مامور من اﷲ کی شناخت میں تمہیں کوئی دِقّت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے سیّد و مولیٰ ہادیٔ کامل محمد مصطفٰے صلّی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی رسالت اور نبوّت کو پیش کرتے ہوئے یہی فرمایا۔اور یہی آپ کو ارشاد ہوا(الاحقاف:۱۰)میں کوئی نیا رسول تو نہیں آیا ہوں جو رسول پہلے آتے رہے ہیں۔اُن کے حالات اور تذکرے تمہارے پاس ہیں۔ان پر غور کرو اور سبق سیکھو کہ وہ کیا لائے اور لوگوں نے ان پر کیا اعتراض کئے۔کیا باتیں تھیں جن پر عمل درآمد کرنے کی وہ تاکید فرماتے تھے اور کیا امور تھے جن سے نفرت دلاتے تھے۔پھر اگر مجھ میں کوئی نئی چیز نہیں ہے تو اعتراض کیوں ہے؟ کیا تمہیں معلوم نہیں۔ان معترضوں کا انجام کیا ہوا تھا؟ الغرض پہلے نبیوں کے جو قصص اﷲ تعالیٰ نے بیان کئے ہیں ان میں ایک عظیم الشان غرض یہ بھی ہے کہ آئندہ زمانہ میں آنے والے ماموروں اور راستبازوں کی شناخت میں دِقّت نہ ہُوا کرے۔اس وقت میں نے نوح علیہ السلام کا قصّہ آپ کو پڑھ کر سنایا ہے۔سب سے پہلی بات جو اس میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ انبیاء علیھم السلام کا اصل وعظ اور ان کی تعلیم کا اصل مغز اور خلاصہ کیا ہوتا ہے۔وہ خدا کے ہاں سے کیا لے کر آتے ہیں۔اور سنوانا چاہتے ہیں۔اور وہ یہ ہے۔اَنِ اﷲ جلّ شانہٗ کی سچّی فرماںبرداری اختیار کرو۔اس کی اطاعت کرو۔اس کی محبت کرو۔اس کے آگے تذلّل کرو۔اُسی کی عبادت کرو۔اور اﷲ کے مقابل میں کوئی غیر تمہارا مطاع محبوب معبود مطلوب امیدو بیم کا مرجع نہ ہو۔اﷲ کے مقابل تمہارے لئے کوئی دوسرا نِدْ نہ ہو۔ایسا نہ ہو کہ اﷲ تعالیٰ کا حکم تمہیں ایک طرف بلاتا ہو اور کوئی اور چیز خواہ وہ تمہارے نفسانی ارادے اور جذبات ہوں یا قوم اور برادری ( سوسائٹی) کے اصول اور دستور ہوں۔سلاطین ہوں۔امراء ہوں۔ضرورتیں ہوں۔غرض کچھ ہی کیوں نہ ہو۔اﷲ تعالیٰ کے مقابل پر میں تم پر اثر انداز نہ ہو سکے۔پس خدا تعالیٰ کی اطاعت عبادت۔فرماںبرداری۔تذلّل اور اس کی حُبّ کے سامنے کوئی اور محبوب۔معبود۔مطلوب اور مطاع نہ ہو۔یہ ایک صورت خدا تعالیٰ کے ساتھ نِدّ نہ بنانے کی اعتقادی طور پر ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ جس طرح اﷲ تعالیٰ کا کوئی نِدّ اور مقابل نہ ہو۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ کی جس طرح پر عبادت کی جاتی ہے۔جس طرح اس کے احکام کی تعمیل اور اوامر کی تعظیم کی جاتی