حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 147 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 147

تو بوجہ محبت ، وطن چھوڑ نہیں سکتا۔مگر جو قومیں گھروں کے چھوڑنے کی عادی ہیں وہ بہت ہی نفع میں رہیں۔ہمارے امراء بہت سُست ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۴) وضعداری ہمارے ملک میں بہت ہی رائج ہے۔اس کے توڑنے کیلئے حج ہے۔جس میں ایسی وضع داریاں خاک میں مِل جاتی ہیں۔پھر بڑا نفع تو یہ ہے کہ لاکھوں آدمی جب مل کر دُعا کرتے ہیں تو ضرور مقبول ہوتی ہے اور اس وقت خصوصیت سے ایک جوش اُٹھتا ہے۔کوئی مدبّر۔کوئی حکیم۔کوئی فلسفی۔کوئی موجد کوئی عالم دنیا کے کسی حصّے میں پیدا ہو۔وہاں ضرور خبر ہو جاتی ہے۔کیونکہ تمام ممالک کی مخلوق کا کوئی نہ کوئی نمونہ وہاں موجود ہوتا ہے۔میں نے مکّہ میں ایک بزرگ دیکھے کہ وہ جلد جلد عربی میں بات کرتے۔مگر ان کی کوئی بات علمِ حدیث سے باہر کی نہ ہوتی۔ایک سوال کے جواب میں فرمایا۔کہ یہ مطلب نہیں کہ مکہ میں منافع ہی منافع ہیں۔نقصان بھی ہو جاتے ہیں۔مگر زیادہ منافع ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۵) ۳۱۔   : جس کو خدا نے بڑا بنایا ہے اس کی تعظیم کرو۔اس سے یہ مسئلہ بھی نکل آتا ہے کہ حاکمِ وقت کی اطاعت چاہیئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۵) ۔: بُتوں کی ناپاکی سے بچو۔اور جھوٹی باتوں سے بچو۔اور اﷲ کی طرف جھکنے والے اور شرک سے بیزار ہو جاؤ۔( نور الدّین طبع سوم صفحہ ۱۹ دیباچہ)