حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 571 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 571

کسی کو دیکھا کہ وہ اطمینان میں خلل انداز ہے۔تو اس کو جلاوطن کر دیا۔میرے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کہ خدا شرے برانگیزد۔خدا تعالیٰ کوئی شر نہیں اٹھاتا۔آدمی خود ایسا کرتے ہیں۔سوال۔ہاروت ماروت بنی اسرائیل کی طرف آئے۔اس وقت وہ بنی اسرائیل غیر مطمئن تھے؟ جواب میں فرمایا دیکھو انگریز بڑے تجربہ کار ہیں۔بیس برس کسی کو دائم الجس رکھ کر اس سے مطمئن ہو جاتے ہیں۔پس بنی اسرائیل جب بابل میں قید ہو کر گئے تھے تو اس کے ستّر برس بعد ہارورت ماروت کا نزول ہوا اتنی مدّت میں وہ یہود جو اصل مجرم تھے وہ بہت سیدھے ہو چکے تھے اور ان میں کسی قسم کا جوش خروش باقی نہ رہا تھا۔بلکہ ایک نئی نسل تھی۔دوسرا سوال کہ ہاروت ماروت مَلَک آدمیوں میں آئے! جواب میں فرمایا۔یہ غلط ہے۔غور کرو جمادات میں بھی ایک نہ ایک ایسا ہوتا ہے جو قریب بہ نباتات ہوتا ہے۔جیسے مونگا ( مرجان) جو جمادات میں سے ہے اسے بعض فلاسفر نباتات میں سے کہتے ہیں۔بعض کہتے ہیں تو جمادات میں سے مگر قریب بہ بناتات ہے۔اسی طرح حیوانات میں مراتب ہیں۔بعض کہتے ہیں تو جمادات میں سے مگر قریب بہ بناتات ہے۔اسی طرح حیوانات میں مراتب ہیں۔مثلاً بندر و انسان کے درمیان کا مرتبہ۔کہ وہ نہ حیوان ہے نہ انسان۔چنانچہ ذلیل ترین کو کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ (اعراف :۱۸۰)فرمایا۔اسی طرح جو آخری درجہ انسانوں کا ہے۔وہ ملائک سے بہت ہی قریبی تعلّقات رکھتا ہے۔انبیاء جو ہوتے ہیں وہ کبھی ملکیّت کے رنگ میں آ جاتے ہیں اور کبھی انسانیت کے رنگ ہیں۔مگر یہاں تو کل قوم کا ذکر ہے۔کہ تمام قوم ملائکہ ہو۔پھر مَلک رسول آوے گا۔چونکہ ایک خاص شخص نبی ہی ملائکہ سے بہت قریب ہوتا ہے۔اس لئے اسی پر مَلک کا نزول ہوتا ہے۔اسی لئے یُعَلِْمُوْنَ النَّاسَ (بقرہ:۱۰۳)فرمایا۔تثینہ کا صیغہ نہیں فرمایا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍مارچ ۱۹۱۰ء) ۹۷۔  : خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت میری صداقت کا فیصلہ کریگی۔چنانچہ آخر آپؐ کی امّت مظفر و منصور ہو گی۔جس سے ثابت ہوا کہ آپؐ ہی حق پر تھے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍مارچ ۱۹۱۰ء)