حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 572
(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍مارچ ۱۹۱۰ء) ۹۸۔ : فرماتا ہے کہ بے شک تیری قوم میں کچھ آدمی تصنیف کرتے ہیں اور اپنی طرف سے ہادی بنتے ہیں۔مگر ہدایت اصل وہی ہے جو خدا کی طرف سے ہو۔اسی واسطے میں برہمو سماج سے بہت خطرہ میں رہتا ہوں۔کیونکہ وہ تمام ابنیاء کو مفتری اور دروغ مصلحت آمیز کا پَیرو سمجھتے ہیں۔اور ہدایت کی کتابیں خود وضع کرتے ہیں۔جو مفید اور بابرکت نہیں ہو سکتیں بہت سے لوگ تنہائی میں رہتے ہیں۔ریاضتیں کرتے ہیں۔مجاہدے میں ہر وقت لگے رہتے ہیں۔اور ثمرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔مگر سچّی اور باامن راہ و مثمر برکات وہی راہ ہے جو خدا سمجھائے۔: اس پر اعتراض ہو سکتا ہے کہ قرآن شریف میں۔۱۔(کہف:۵۴) ۲۔یہ دَعَوْاھُتَالِکَ ثُبُوْرًا (فرقان:۱۴) ۳۔(ملک : ۸)بھی آیا ہے۔جس سے دوزخیوں کا دیکھنا۔بولنا۔سُننا ثابت ہے۔حضرت ابنِ عباسؓ نے اس سوال کا جواب دیا ہے کہ لَا یَسْمَعُوْنَ مَایَسُرُْھُمْ ۲۔لَا یَنْطِقُوْنَ بِحُجَّتِھِمْ ۳۔لَا یَرَوْنَ مَا یَسُرُّھُمْ یعنی ایسی چیز نہ سنیں گے یا نہ دیکھیں گے جو ان کو خوشی کرے اور نہ کوئی اپنی دلیل دے سکیں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍مارچ ۱۹۱۰ء) ۱۰۲۔ تِسْعَ اٰیَاتٍ : ان نو نشانوں کے بیان میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے۔بعض کہتے ہیں۔نو