حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 570
آسمان سے نازل نہیں ہوئی۔۵۔کیا فدک کے جنّت ہونے میں کچھ کلام ہے۔اور کیا خیبر اور طائف کے باغات آپؐ کے قبضہ میں نہ آئے۔ہاں وہ بشر رسول تھا۔اس لئے یہ آیات اسی سنّت اور اندازے کے ماتحت دی گئیں جو رسولوں کے ساتھ ابتداء سے اس کا طریق چلا آیا ہے۔خدا نے آپؐ پر یہاں تک فضل کیا کہ مکّہ اور مدینہ میں بھی نہر آ گئی جیسا کہ یسعیاہ۴۱؍۱۸ میں ہے ’’ میں ٹیلوں پر نہریں اور وادیوں میں چشمے کھولوں گا۔میں صحرا کو تالاب اور سوکھی زمین کو پانی کی نہریک کردوں گا۔میں بیابانوں میں دیودار اور ببول اور آس اور بلسان کے درخت آگاؤں گا ‘‘ اور تمام وعدے پورے دیئے جو یسعیاہ ۴۲ و ۶۰ میں ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۸ صفحہ ۳۹۹ تا صفحہ ۴۰۲) جب کفّارِ مکّہ نے آپؐ سے سوال کیا کہ تُو آسمان پر چڑھ جا تو خود خدا تعالیٰ نے اپنے نبی کو ارشاد کیا کہ یوں جواب دو۔ تو کہہ میرا ربّ ایسے ناجائز سوالوں کا جواب اور ایسی لغو حرکات سے پاک ہے۔کہ اپنی سنّت کو توڑے۔یہ اسکی مصلحت کے خلاف فہے۔مَیں تو بشر رسول ہوں اور بشر رسول کا آسمان پر بجسم عنصری جانا سننِ الہٰیہ کے خلاف ہے۔(نور الدّین طبع سوم صفحہ ۹۸) ۹۶۔ : اس سے ظاہر ہے کہ واعظ بھی اگر ہو تو اس قوم کے رسم و رواج۔عادات۔حالات۔زبان سے خوب واقف ہو۔: میں ایک نکتہ ہے کہ کسی قوم میں خود تفرقہ۔جنگ۔فساد پڑ رہا ہو تو پھر ان کو کوئی کیا سمجھائے گا۔اور وہ کیا سمجھیں گے؟ چنانچہ مکّہ کی نسبت خود فرمایا۔(نحل:۱۱۳)عرب کی اصلاح کے لئے اسی وقت رسول مبعوث فرمایا۔جب وہ اطمینان کی زندگی بسر کر رہے تھے۔اسی اصول پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم چلتے رہے۔چنانچہ جب