حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 550 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 550

اور اگر ہمارے حضور۔ہمارے ہادی کا گھر ہی لینا ہے جیسیبَیْتٌ لَکَ سے معلوم ہوتا ہے تو اب روضہ اطہر و اقدس کا نظارہ کو لو ؎ کَیْفَ الْوُصُولُ اِلٰی مَدِنَۃِ الْمُصْطَفٰی شَتَّانِ بَیْنَ الْھِنْدِ وَالزَّوْرَائِ اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِیْ شَھَادَۃً فِی بَلَدِ رَسُوْلِکَ : آمین چھٹے معجزہ کا بیان سابق کر چکا ہوں۔غور کرو۔کیسے یہ تمام معجزات پورے ہو گئے۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔یادداشت۔عیسائی صاحبان! اگر کسی امتحان اور معجزہ کا ظہور پذیر ہونا نقص ہے تو جواب دو جب کسی نے حضرت مسیحؑ کو کہا اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو کہہ کہ یہ پتھر روٹی بن جاویں۔اس نے ( مسیحؑ نے) جواب میں کہا۔لکھا ہے انسان صرف روٹی سے نہیں بلکہ ہر ایک بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے۔جیتا ہے۔پھر شیطان اسے (مسیح کو) مقدّس شہر میں اپنے ساتھ لے گیا۔اور ہیکل کے کنگرے پر کھڑا کر کے اسے کہا۔اگر تُو خدا کا بیٹا ہے تو اپنے تئیں نیچے گرد دے۔کیونکہ کہا ہے کہ وہ تیرے لئے اپنے فرشتوں کو فرمائے گا اور دے تجھے ہاتھوں پر اٹھا لیں گے۔ایسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو پتھر سے ٹھیس لگے۔یسوع نے اسے کہا۔یہ بھی لکھا ہے کہ تُو خداوندا اپنے خدا کو مت آزما!۔(متی ۴ باب آیت ۳ تا ۷) (ایک عیسائی کے تین سوال اور انکے جوابات صفحہ۶۰ تا صفحہ۶۷ نیز دیکھیں شحیذالاذہان جلد۷ نمبر۸ صفحہ ۳۹۹۔۴۰۲) ۶۱۔   : اب ایک نشان کا ذکر فرماتا ہے۔: بعض نے کہا ہے یہ رؤیا معراج مراد ہے۔بہت لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم معراج کے رؤیا میں اپنی بڑی بڑی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہیں۔یہ کب نصیب ہو سکتی ہیں۔لیکن آخر ہم چودہویں صدی میں دیکھ رہے ہیں کہ معراج کے واقعات حرف بہ حرف صادق آ رہے ہیں۔