حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 551
: ایک اور موقعہ پر فرمایا ہے۔(صفٰت:۶۵)اس پر مشرکین نے ہنسی کی اور شجرۂ زقوم کے معنے مکھن۔کھجور بنا کر لوگوں کی دعوت کی اور کہا۔یہ ہے۔جس سے محمدؐ ڈرتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍فروری ۱۹۱۰ء) : اور یہ جھگڑے لعنتی ہیں قرآن میں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۳۶۲) ۶۳۔ : کے تین معنے ہیں۔ا۔تابعین نے معنے کئے ہیں۔اَحْتَوِیَنَّ حاوی ہو جاؤں گا۔۲۔لَاَسْتَوْلِیَنَّ مسلّط ہو جاؤں گا۔شاہ عبدالقادر نے لطیف ترجمہ کیا ہے۔ان کی ڈھائی باندھوں گا۔ڈھائی کو پنجابی میں کھبّی کہتے ہیں۔قَالَکے متعلق یاد رکھنے کی بات ہے کہضربؔ۔فعلؔ۔قَالَ ؔ تینوںبلکہ ان کے ساتھقتلؔ بھی قریب المعنی ہیں۔مُنہ سے کہے۔ہاتھ۔پاؤں۔ناک۔آنکھوں کے کسی فعل کو کرے یا کسی واسطے سے کرے سب پر قَالَ بولا جاتا ہے۔اسی واسطے صرفیوں نے بالعموم انہی افعال کو رکھا ہے۔کَلَّمَ کالفظ بھی وسیع ہے۔ہاںکَلَّمَ تَکْلِیْمًا جب آئے تو پھر لفظوں سے بات کرنے کے معنے میں آتا ہے۔کَلَّمَ الْجِدَارُ الْوَتَدَتَکْلِیْمًا کبھی نہیں بولتے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍فروری ۱۹۱۰ء) ۶۴۔ : عربی زبان میں جب اسم فاعل کمال کو پہنچے تو صیغہ مبالغہ سے بڑھ کر اسے مفعول کے رنگ میں ادا کرتے ہیں۔وفور کے معنے ہیں۔بڑی وافر۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍فروری ۱۹۱۰ء)