حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 549
ان آیات سے اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ بیابان اور صحرا میں چشمے جاری ہوں گے ندیاں چلیں گی۔مگر اس میں یہ لکھا ہے کہ برگزیدوں کے پینے کیلئے ہوویں۔(دیکھو یسعیاہ ۴۳؍۲۰) بنی اسرائیل کے ایسے باغ عربوں کے ہاتھ ضرور آویں گے جن میں نہریں چلتی ہوں۔مگر بنی اسرائیل مکّہ میں آباد نہیں۔وہ زمانہ ہجرت کے بعد ہے۔جس میں یہ بشارت پوری ہو گئی۔کفّار اہلِ کتاب کے بہکانے پر دھوکہ دیتے ہیں مگر دیکھو نبوی معجزات اور محمدیہؐ کیلئے! دیکھو نہرِ زبیدہ مکّہ میں اور بنی زرقاء کی نہر مدینہ طیّبہ میں برگزیدوں کے پینے کے واسطے موجود ہیں۔بنو قریظہ اور بنو نضیر کے مکانات برگزیدوں کے قبضے میں آ چکے اور کھجوروں اور انگوروں کے ایسے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔حضورؐ کیا۔حضورؐ کے خادمان کے پاس وہاں موجود ہیں۔موسٰی علیہ السلام کے وعدوں سے ( ملک کنعان وغیرہ کی حکومت سے وہ نسل اکثر محروم رہی) اور حضور کے برکات معجزوں سے آپ ؐ کی اکثر قوم وعدہ کو دیکھ چکی اور انشاء اﷲ یقینًا حقیقی کنعان میں بھی پہنچ جائیں گے۔تیسرا اور چوتھا معجزہ: یہ کہ منکروں پر آسمان ٹوٹ پڑے۔اور اﷲ تعالیٰ اور ملائکہ کی افواج کفّار کو تباہ کردے یہ دونوں معجزہ بھی جن کو کفّار نے طلب کیا۔کتبِ مقدّسہ میں موجود ہیں۔دیکھو:۔’’ خدا سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا۔فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا۔‘‘ (استثناء ۳۳ باب ۲) یہ پیشگوئی نہایت عمدگی سے اس دن پوری ہوئی۔جس دن حضور علیہ السلام نے مکّہ معظّمہ کو فتح فرمایاغور کرو بخاری (مطبع میرٹھ کا صفحہ ۶۱۳)اور بخاری(مصری کا جلد۲ صفحہ ۵۰) حضور کے ساتھ اس دن دس ہزار ہاں ٹھیک دس ہزار قدوسی صحابی جن کے ساتھ ملائکہ تھے موجود تھا اور اسی دن مکّہ کے کفار پر آسمان ایسا ٹوٹ پڑا کہ وہاں ان کا نام و نشان بھی نہ رہا۔یاد رہے۔’’ ہاجرہ عرب کا کوہ سینا ہے۔‘‘ دیکھو نامہ گلیتیاں۴ باب ۲۵۔پس معنے ہوں گے۔ہاجرہ کی پُشت سے اور فاران خود وادیٔ حجاز کو کہتے ہیں اور شعیر میں دو دفعہ حضور بطور تُجَّارتشریف لے گئے اور بدرؔ کی لرائی میں بھی ملائکہ کا لشکر اسلام کا گہرا مددگار تھا۔دیکھو قرآن سورۃ آل عمران پانچواں معجزہ۔کہ تیرا گھر بڑا زینت والا ہے۔یہ کتبِ مقدّسہ سے لیا گیا۔’’ تیرے پتھروں کو سُرمہ لگاؤں گا اور تیری بنیاد نیلموں سے ڈالوں گا۔مَیں تیری فصیلوں کو لعلوں سے اور تیرے پھاٹکوں میں چمکتے ہوئے جواہرات اور تیرا سارا احاطہ بیش قیمت پتھروں سے بناؤں گا۔تیرے سب فرزند بھی خدا سے تعلیم پاویں گے۔‘‘ (یسعیاہ ۵۴ باب ۱۲ـ۔۱۳)