حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 542
والے اور تمام عیسائی خاکسار بندے ابنِ مریم کو خدا ماننے والے جن کے حق میں قرآن فرماتا ہے (آل عمران:۶۵)ا ور کچھ یہود بَعل اور مولک اور عستارات کے پُجاری۔اور ایسے سخت بے ایمان جو عرب کے سخت بُت پرستوں کو کہتے ہیں۔ (النسآء:۵۲) دنیا کی ایسی حالت میں ایک بے ساز و سامان۔بے فوج و ملک ، توحید کا واعظ کھڑا ہو گیا اور دعوٰی کیا کہ مجھے خدا نے بھیجا اور حکم دیا ہے۔قُمْ فَاَنْذِرْ وَ رَبَّکَ فَکَبِّرْ۔اس نے تمام رسوماتِ باطلہ پر یَک قلم خط نسخ کھینچنا چاہا۔تمام ریئس اور امیر غریب اور فقیر اس واعظ کے جانی دشمن ہو گئے۔سبحان اﷲ کیسا مخالف اٹھا۔اپنی قوم کو جاہل اور ان کے زمانے کو جاہلیت کا زمانہ کہتا ہے۔قوم کا ایسا مخالف نہیں جیسے ایک شخص مصلحِ قوم کہتا ہے۔یہ مت سمجھو۔میں نبیوں کی کتابیں منسوخ کرنے آیا۔اور ایک کہتا ہے ویدؔ ایسے ہیں کہ تمام علوم اور فنون کا مخزن ہیں۔پھر اپنی اُمیدیں خاک میں لے گیا۔تمام ملک اور تمام اہلِ شہر مارنے کے درپَے ہیں اور یہ کہتا جاتا ہے (الصف:۹،۱۰) (القمر:۴۶) اور پھر ایسا کامیاب ہوا۔ایسا کامیاب ہوا کہ اپنے سامنے اس کو یہ سورۃ پہنچ گئی۔ (النّصر:۲،۳) جس قوم میں اٹھا۔اس قوم میں ایک بھی نہ رہا جو اس کے آخری ایّام میں مخالف ہوتا؟ اپنے ارادوں میں پورا کامیاب ہو گیا اور کامیابی دیکھ کر اپنی ڈیوٹی کو پورا کر کے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملا۔بتایئے یہ معجزہ اب تک نظر میں آتا ہے یا نہیں؟ مگر یہ خرقِ عادت نہیں تو اس کی نظیر دکھائیے؟ اور معجزہ بمعنی عاجز کنندہ نہیں تو اس کے ہم شہر اور ہم قوم دشمنوں کا نام و نشان ڈھونڈئیے؟ عیسائی مذہب کا ربّ اور اُن کا خُدا کیا نظیر ہو سکتا ہے؟ جو بقول عیسائیوں کے قوم سے پِٹا۔مارا گیا۔اسکی مخالف اس کی قوم اب تک موجود ہے۔موسٰیؑ کب نظیر ہو سکتا ہے ؟ جس نے خود بھی وہ ملک نہ دیکھا جس کی اُمید پر مصر سے قوم کو لے چلا۔