حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 543
وِید کے متّبع کیا دکھائیں گے؟ جن کے مقدّس مکان دوسروں کے قبضوں میں نظر آتے ہیں۔جِن کی الہامی دعائیں، خدا کی بتائیں رچیں، ہمیشہ اُلٹی پڑیں! زرتشتی کیا نظیر دکھائیں گے؟ جن کو اپنے ملک میں سر رکھنے کی جگہ نہیں ملی! دوسری آیت نبوّت یا دوسرا معجزہ اور خرق عادت جو محسوس اور مشہود ہے۔آپؐ کی حیات میں آپؐ کا اپنے ملک پر پورا تسلّط اور اپنی قوم پر پوری حکومت جو نہ آپؐ کے پہلے کبھی ایسی کامیابی کسی مدعیٔ نبوّت کو ہوئی اور نہ آپؐ کے بعد۔حضور علیہ السلام کیسے آزادی بخش اپنی قوم کے ہوئے کہ آپؐ کا شہر آج تک غیروں کی غلامی سے آزاد ہو گیا۔سلطان ٹرکی جو برائے نام وہاں کے بادشاہ ہیں خادم الحرمین کا لقب رکھتے ہیں۔اس موقعہ پر وِید کی الہامی دعائیں اور انکی کوششیں جو وید کے مومن ہیں اور عیسائیوں کے مخلص مُنَجِّی کی جاں فشانی اور موسٰیؑ کے بڑے معجزات اور یعقوب کے ساتھ خدائی وعدے کنعان کی ابدی وراثت کی بابت۔اور پارسیوں کے الہامی ہادیوں کی دعائیں فراموش کرنے کے قابل نہیں۔قومی آزادی کے قدردان قوم کے مصلحین کے قربان انصاف کریں۔ہادیٔ عرب کمزوری کی حالت میں کیا کر گئے(سبا:۵۰) (المزمل:۱۶-۱۷)اور آرام کا وعدہ۔(النور:۵۶) پھر اپنے وعدہ کو سچّا کر دکھاتا ہے۔مدعیٔ نبوّت سے ایسی کامیابی بے نظیر اور خرقِ عادت نہیں تو اور کیا ہے۔تیسرا معجزہ یا خرق عادت بلکہ آیتِ نبوّت۔ (الحجر:۱۰) کس طرح قرآن کی حفاظت ہوئی۔دنیا میں کوئی مذہب دکھاؤ جس کی کتاب اپنے ہادی کی زبان میں بعینہٖ اس طرح شہرت پذیر ہو۔تراجم کا اعتبار نہیں۔تراجم مترجمین کے خیالات ہیں۔انجیل کی تو ایسی حفاظت ہوئی کہ الامان۔انجیل کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔آج تک پتہ نہیں لگتا۔مسیح کی اصلی کتاب عبری تھی یا یونانی۔پھر ان کا کلام بالکل حواریوں کے کلام سے مخلوط ہے۔ممتاز نہیں۔وِید کی حالت