حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 519 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 519

بِھَاوَ لٰکِنَّہٗ ٓ اَخْلَدَ اِلَی الْاَرْضِ (الاعراف:۱۷۷) اور سرورِ کائنات صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اِیَّاکُمْ وَ الظَّنِّ وَ اِنَّ الطَّنَّ اَکْذَبَ الْحَدِیْثِ۔بدگمانیوں سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ورنہ نہایت ہی خطرناک جھوٹ میں مبتلا ہو کر قرب الہٰی سے محروم ہو جاؤ گے! یاد رکھو حُسنِ ظن والے کو کبھی نقصان نہیں پہنچتا۔مگربدظنی کرنے والا ہمیشہ خسارہ میں رہتا ہے۔(الحکم ۳۱؍جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ۲) ۱۲۸۔  ہر ایک سلیم الفطرت۔دنیا کے معاملات کا واقف خوب جانتا ہے کہ بعض لوگ صبر سے کام نہیں لے سکتے اور یہ بھی کہ بعض اوقات چشم پوشی۔صبر۔درگزر۔نقصانِ عظیم کا موجب ہوتی ہے۔چور۔باغی اور راستہ لوٹنے والے کو اگر سزا نہ دی جاوے اور صرف رحم ہی اس پر کیا جاوے تو کتنا نقصان ہوتا ہے۔فطری قوٰی میں انتقامی طاقت بھی سلیم الفطرت انسان کے ساتھ لازمی ہے۔پھر اگر قوّتِ انتقام کو ہی کام میں لاوے اور مقابلہ ہی چاہے تو اسے یہی قرآن کس طرح نیک روی کی تعلیم کرتا ہے اور کسی طرح صبر اورنرمی کی ترغیب دیتا ہے۔الٓمرٰ سے عملی طور پر کفار کو ڈرایا تھا۔سورۂ نحل میم عملی رنگ میںکفّار کی شرارتوں کا ذکر کیا اب آپ ؐ کی ہجرت کا واقعہ آتا ہے۔اگلی سورۃ میں تمام ترقیاتِ اسلام کا ذکر فرمائے گا۔: صبر کبھی کمزوری سے ہوتا ہے۔مگر فرماتا ہے۔تمہارا صبر اﷲ کیلئے ہو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۰؍فروری۱۹۱۰ء) ۱۲۹۔ پھر تقوٰی ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے اﷲ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے جیسے فرمایا ۔بے شک اﷲ ان لوگوں کے ساتھ ضرور ہوتا ہے جو متقی ہوتے ہیں۔اور ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو محسنین ہوتے ہیں۔احسان کی تعریف رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم