حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 518
امر بالمعروف کرتے ہوئے کسی نے ایک بادشاہ کا مقابلہ کیا۔بادشاہ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔اس پر ایک بزرگ نے کہا امر بالمعروف کا مقابلہ گناہ تھا مگر ایک مومن کا قتل اس سے بھی بڑھ کر سخت گناہ ہے واغط کو چاہیئے کہ پر عمل کرے اور ایسی طرز میں کلمۂ حکمت گوش گزار کرے کہ کسی کو بُرا معلوم نہ ہو۔تم لوگ جو یہاں باہر سے آئے ہو۔اگر کوئی نیک بات یہاں والوں میںدیکھتے ہو یا یہاں سے سُنتے ہو تو اسکی باہر اشاعت کر اور اگر کوئی بُری بات دیکھی ہے۔تو اس کیلئے دردِ دل سے دعائیں کرو کہ الہٰی اب لاکھ ہا روپے خرچ ہو کر یہ ایک قوم بن چکی ہے۔اور یہ قوم کے امام بن گئے ہیں۔پس تُو ان میں اصلاح پیدا کر دے۔(بدر ۲۸؍جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ۱۰) ۱۲۷۔ یہ ایک خطرناک مرض ہے جس کو شریعت میں سوء ظن کہتے ہیں۔بہت سے لوگ اس میں مبتلاء ہیں اور ہزاروں قسم کی نکتہ چینیوں سے دوسروں کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں اور اسے حقیر بنانے کی فکر میں ہیں مگر یاد رکھو۔وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ (الآیۃ)عقاب کے معنے جو پیچھے آتا ہے۔انسان جو بلاوجہ دوسرے کو بدنام کرتا ہے اور سوء ظن سے کام لے کر اسکی تحقیر کرتا ہے۔اگر وہ شخص اس میں مبتلا نہیں۔جس بدی کا سوء ظن والے نے اسے مہتّمَ ٹھہرایا ہے۔تو یہ یقینی بات ہے کہ سوء ظن کرنے والا ہرگز نہیں مریگا جب تک خود اس بدی میں گرفتار نہ ہوئے۔پھر بتاؤ کہ سوء ظن سے کوئی کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ مَت سمجھو کہ نمازیں پڑھتے ہو عجیب عجیب خوابیں تم کو آتی ہیں یا تمہیں الہام ہوتے ہیں۔مَیں کہتا ہوں کہ اگر یہ سوء ظن کا مرض تمہارے ساتھ ہے تو یہ آیات تم پر حُجّت ہو کر تمہارے ابتلاء کا موجب ہیں! اس لئے ہر وقت ڈرتے رہو اور اپنے اندر کا محاسبہ کر کے استغفار اور حفاظتِ الہٰی طلب کرو!! مَیں پھر کہتا ہوں کہ آیات اﷲ جن کے باعث کسی کو رفعتِ شان کا مرتبہ عطا ہوتا ہے۔اُن پر تمہیں اطلاع نہیں۔وہ الگ رُتبہ رکھتی ہیں۔مگر وہ چیزیں جن سے خودرائی۔خود پسندی۔خود غرضی۔تحقیر بدظنی اور خطرناک بدظنی پیدا ہوتی ہے۔وہ انسان کو ہلاک کرنے والی ہیں۔ایک ایسے انسان کا قصّہ قرآن میں ہے۔جس نے آیات اﷲ دیکھے مگر اس کی نسبت ارشاد ساہوتا ہے۔وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاہُ