حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 450
سُوْرَۃُ الْحِجْرِ مَکِّیَّۃٌ ۲۔ : اَنَا اللّٰہُ اَرٰی۔دیکھنا خدا کی وہ صفت ہے جس کا ظاہری امور کے ساتھ تعلق ہے اور علم وہ صفت جس کا باطنی امور کے ساتھ تعلق ہے۔یہ عام ہے… خدا تعالیٰ اس سورۃ میں ان شوخیوں اورشرارتوں کا ذکر فرماتا ہے۔جو کفّار نے رُسل اور انکی جماعت سے کیں اور فرماتا ہے کہ مَیں ان شرارتوں کو دیکھتا ہوں۔: کتیبہ فوج کو کہتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ کی کتاب دشمنوں کے مختلف جملوں اور شبہات اور بدیوں کی دافع ہوتی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) ۳۔ : اس کتاب کے دلائل ایسے پختہ ہیں کہ کافروں کا بھی بعض اوقات جی کرآتا ہے کہ ہم مسلمان ہو جاویں۔اسلام نے خدا کی کوئی ایسی صفت بیان نہیں کی کہ جس کو پبلک کے سامنے پیش کرتے ہوئے شرم آئے۔ہندو کہتے ہیں کہ خدا نے سور کا اوتار لیا تو انہیں اس کی کوئی توجیہ کرنی پڑتی ہے۔اسی طرح عیسائی جب بیٹا کہتے ہیں تو اس کی عجیب عجیب تاویلیں کرتے ہیں۔مگر اسلام نے جو خدا پیش کیا ہے وہ ہر عیب سے منزّہ اور کمزوریوں سے مبّراہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) ۴۔ : خدا کی طرف سے کوئی مذہب ایسا نہیں جو تمام آدمیوں کو بجبر منوایا جاوے اسلام نام ہے صدقِ دل سے مان لینے کا اور جبرو اکراہ میں یہ بات ہرگز نہیں۔