حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 445
۳۶۔ حضرت نبی کریمؐ سے پہلے جو لوگ دنیا میں سب سے بڑے آدمی گزرے ہیں۔ان سب کے سر تاج حضرت ابراہیمؑ تھے۔یاد رکھو دنیا میں د و خلیل گزرے ہیں۔ایک خلیل الرحمن ابراہیمؑ ہیں۔دوسرے حضرت محمد رسول الﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم۔مجھے کسی تیسرے کا نام معلوم نہیں۔تم نے سنا ہو گا کہ سارا یورپ۔ساری امریکہ اور پھر سب مسلمان ابراہیمؑ کو راست باز اور عظیم الشان مانتے ہیں۔اتنے بڑے عظیم الشان انسان کی بات خاص توجّہ کے قابل ہے۔سنو کہ وہ اپنے لئے اور اپنی اولاد کیلئے کیا چاہتا ہے۔رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی سارہ سے ایک معاہدہ کیا تھا کہ ہم تیری ایک بات مان لیں گے چنانچہ جب ہاجرہ بی بی کے لڑکا پیدا ہوا۔تو جناب سارہ کو کسی سبب سے دُکھ ہوا۔جس پر انہوں نے کہا کہ اے ابراہیم! بموجب اپنے وعدہ کے اس لڑکے اور اسکی ماں کو ایسے جنگل میں چھوڑ آ جہاں سے ہمیں ان کی کوئی خبر نہ آئے۔انبیاء ایسے معاہدے خدا کے حکم سے کرتے ہیں۔چنانچہ وہ اپنے بچّے اور بیوی کو اسی کے حکم سے جنگل میں چھوڑ آئے۔مگر خدا پر ایمان کی یہ کیفیت ہے کہ اس بیابان کو اَلْبَلَدَ فرماتے ہیںجو آپؑ کو یقین تھا کہ یہ شہر ہو جائے گا۔: میرے ایک دوست بیمار تھے۔ان کی موت میں تین دن باقی تھے کہ کہنے لگے۔ایک نکاح چاہتا ہوں۔سب نے تعجّب کیا تو کہنے لگے۔میں تو صرف چاہتا ہوں کہ کوئی لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنے والا اور پیدا ہو جاوئے۔حالانکہ ان کی بہت اولاد اس وقت بظاہر موجود تھی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) : سات دعائیں ہیں۔سات بار رَبِّ کہا ہے۔(تشحیذالاذھان جلد نمبر۹ صفحہ ۴۶۱) ۳۷۔