حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 444
انسان پر جنابِ الہٰی نے بڑے بڑے کرم۔غریب نوازیاں اور رحم کئے ہیں۔اس کے سر سے لیکر پاؤں تک اس قدر ضرورتیں ہیں کہ شمار نہیں کر سکتا۔اس لئے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے اگر اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں اور غریب نوازیوں کا مطالعہ کرو تو کیا گِن سکتے ہو ایک بال جو اس کا سفید ہو جائے تو گھبرا اٹھتا ہے اور حجام کو بُلا کر نوچ ڈالتا ہے۔اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ کیسی نعمت ہے۔پھر کھانے پینے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک کھانا غریب سے غریب آدمی کے سامنے بھی جو آتا ہے تو دیکھو کہ وہ پانی۔غلّہ۔نمک کہاں کہاں سے آیا ہے اور اگر دال۔ل گوشت۔چاول بھی میز پر آ جاوے تو دیکھو کہاں کہاں کی نعمت ہے اور ہر ایک کا جُدا جُدا مزہ ہے۔پھر ہوا روشنی وغیرہ۔کوئی ایک نعمت ہو تو اس کا شمار اور ذکر ہو۔کسی نے مختصر ترجمہ کیا ہے۔ابروبار مہر و خورشید ہمہ درکا راند تا تو نانے بکف آری و غفلت نکنی سورج چاند کو دیکھتے ہیں۔بادل اور ہوا کو دیکھتے ہیں۔یہ سب تیری روٹی کی فکر میں ہیں۔پھر جس کا نمک کھائیں اور حکم نہ مانیں تو یہ نمک حرامی ہوئی یا کچھ اور۔کوئی کسی کا نوکر ہو۔اگر وہ آقا کی فرماں برداری نہیں کرتا تو وہ نمک حرام کہلاتا ہے۔پھر کس قدر افسوس ہے انسان پر کہ اﷲ تعالیٰ کے لا انتہاء انعام و اکرام اس پر ہوں اور وہ غفلت کی زندگی بسر کرے۔(الحکم ۷؍۱۴ جون ۱۹۱۱ء صفحہ۶)