حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 446 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 446

 کا لفظ قابلِ غور ہے۔اس لئے کہ اضلال اور گمراہ کرنے کی نسبت بُتوں اور پتھروں کو دی گئی۔جن میں گمراہی کے خلق کرنے کا ارادی مادہ بالکل نہیں بلکہ محض بے جان بے ضرر چیزیں ہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۱۳۷) ۳۸۔   اے ربّ میں نے بسائی ہے ایک اولاد اپنی میدان میں جہاں کھیتی نہیں۔تیرے ادب والے گھر کے پاس اے ربّ تا قائم رکھیں نماز۔سو رکھ بعضے لوگوں کے دل جھکتے ان کی طرف اور روزی دے ان کو میووں سے شاید وہ شکر کریں۔اس آیت میں لوگوں کے دلوں کو انکی طرف جھکایا ہے۔عجیب قابلِ غور کلام ہے اور اُس معزز گھر یعنی مکّہ معظّمہ کا ابراہیمؑ کے زمانے سے عمومًا اور آنحضرتؐ کے زمانے سے خصوصًا لاکھوں قسم کی مخلوقات کا مرجع و مرکز ہونا۔وعدۂ الہٰی کے ثبوت کی بڑی بھاری دلیل ہے۔(فصل الخطاب حصّہ دوم ایڈیشن دوم صفحہ۲۱) ۴۰۔ : اسمٰعیلؑ ۸۴ برس کی عمر میں پیدا ہوئے اور ۹۹ برس کی عمر میں اسحٰق پیدا ہوئے تھے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) ۴۲۔ : قرآن شریف میں دوسرے مقام پر فرمایا۔