حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 381 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 381

خاتم النبیّینؐ اسی اسماعلیل کی نسل میں ہوا۔اور خاتم الخلفاء اسی خاتم النبیّین کی اُمّت میں اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ۔اِنَّکَ حَمِیْدٌمَّجِیْدٌ۔پھر ابراہیم علیہ السلام کا وہ صدق اور اخلاص کہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہوا اَسْلِمْ۔قَالَ اَسْلَمْتُ اے ابراہیم!تو فرماں بردار ہو چکا۔عرض کیا۔حضور مَیں تو فرماں بردار ہو چکا۔اَسْلِمُ۔اَسْلَمْت یعنیاپنا ارادہ رکھا ہی نہیں۔معاً حکمِ الہٰی کی ساتھ ہی تعمیل ہو گئی۔پھر اس اخلاص سے کیا بدلہ پایا کہ ابوالملّۃ ٹھہرا۔جو کچھ چھوڑا اس سے بڑھ کر مِلا۔اسی طرح پر سید الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حالات پر غور کرو۔اہلِ مکّہ نے کہا کہ اگر آپ کو بادشاہ بننے کی آرزو ہے تو ہم تجھ کو بادشاہ بنانے کیلئے تیار ہیں۔اگر تجھے دولتمند بننے کی خواہش ہے تو دولت جمع کر دیتے ہیں۔اگر حسین عورت چاہتا ہے تو تأمل و مذائقہ نہیں۔یہ کیا چیزیں تھیں۔مگر دنیا پرست کی نظر ان سے پَرے نہیں جا سکتی تھی۔اس لئے اسی کو پیش کیا۔آپؐ نے اس کا کیا جواب دیا؟ کہ اگر سورج اور چاند کو میرے دائیں بائیں رکھ دو تو بھی میں اشاعت اور تبلیغ سے رُک نہیں سکتا۔اﷲ ! اﷲ! کس قدر اخلاص ہے اﷲ تعالیٰ پر کتنا بڑا ایمان ہے۔قوم کی مخالفت اون دُکھوں اور تکلیفوں کے سمندر میں اپنے آپ کو ڈال دینے کے واسطے روح میں کس قدر جوش اور گرمی ہے جو اس انکار سے آنے والی تھیں۔ان تمام مفاد اور منافع پر تھُوک دینے کیلئے کتنی بڑی جرأت ہے جو وہ ایک دنیادار کی حیثیت سے پیش کرتے تھے مگر خدا کو راضی رکھ کر۔اس کو مان کر اور اس کے احکام کی عزّت و عظمت کو مدّ نظر رکھ کر اس قربانی کا بدلہ آپؐ نے کیا پایا جو دنیا میں کسی ہادی کو نہیں ملا۔اور نہ ملے گا۔۔اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ کی صدا کس کو آئی؟ اور کس نے ہر چیز میں آپؐ کو وہ کوثر عطا کی جس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی۔سوچو اور غور کرو!! میں نے مختلف مذاہب کی کتابوں۔انکے ہادیوں اور یا نبیوں کے حالات کو پڑھا ہے۔اس لئے دعوٰی سے کہتا ہوں کہ کوئی قوم اپنے ہادی کیلئے ہر وقت دعائیں نہیں مانگتی ہے۔مگر مسلمان ہیں کہ دنیا کے ہر حصّہ میں ہر وقت ہرآن اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّد وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ کی دُعا آپؐ کیلئے کر رہے ہیں۔جس سے آپؐ کے اور مراتب ہر آن بڑھ رہے ہیں۔یہ خیالی اور خوشکن بات نہیں۔واقعی اسی طرح پر ہے۔دنیا کے ہر آباد حصّہ میں مسلمان آباد ہیں اور ہر وقت ان کی کسی نہ کسی نماز کا وقت ضرور ہوتا جس میں لازمی طور پراَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّد پڑھا جاتا ہے