حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 380
قریشیوں ہی کا سلسلہ چلا جاتا ہے۔بنو ثقیفہ ۱؎ میں کوشش کی گئی کہ ایک خلیفہ انصار میں سے ہو اور ایک مہاجرین میں سے۔مگر یہ تجویز پاس نہیں ہوئی۔اور کسی نے نہ مانا۔آخر مجھ پر اسکا سِرّ یہ کُھلا کہ اﷲ تعالیٰ کی ۱؎ غالبًا سقیفہ بنی ساعدۃ۔واﷲ اعلم۔مرتّب یہ صفت اِنَّ اپنا کام کر رہی تھی۔انصار نے کیا چھوڑا تھا۔جو ان کو ملتا؟ مہاجرین نے ملک چھوڑا۔وطن چھوڑا۔گھر بار چھوڑا۔مال و اسباب۔غرض جو کچھ تھا وہ سب چھوڑا۔اور سب سے بڑھ کر ابوبکر صدیق ؓ نے۔اس لئے جنہوں نے جو کچھ چھوڑا تھا۔اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر پایا۔زیادہ سے زیادہ انکی زمین چند بیگھہ ہو گی جو انہوں نے خدا کیلئے چھوڑی۔مگر اس کے بدلہ میں یہاں خدا نے کتنے بیگھہ دی۔اسکا حساب بھی کچھ نہیں۔پس یہ سچی بات ہے کہ جس قدر قربانی خدا کے لئے کرتا ہے اسی قدر فیض انسان اﷲ تعالیٰ کے حضور سے پاتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کتنی بڑی تھی۔پھر اس کا پھل دیکھو۔کس قدر ملا۔اپنی عمر کے آخری ایّام میں ایک خواب کی بنا ء پر جس کی تاویل ہو سکتی تھی۔حضرت ابراہیمؑ نے اپنے خلوص کے اظہار کیلئے جوان بیٹے کو ذبح کرنے کا عزم بالجزم کر لیا۔پھر خدا نے اس کی نسل کو کس قدر بڑھایا کہ وہ شمار میں بھی نہیں آ سکتی۔اسی نسل میں محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جیسا عظیم الشان رسول خاتم النبیّین رسول کر کے بھیجا جو کل انبیاء علیھم السّلام سے افضل ٹھہرا۔جس کی امّت میں ہزاروں ہزار اولیاء اﷲ ہوئے جو بنی اسرائیل کے انبیاء کے مثیل تھے اور لاکھوں لاکھ بادشاہ ہوئے۔یہاں تک کہ مسیح موعود جو خائم الخلفاء ٹھہرایا گیا ہے وہ بھی اسی امّت میں پیدا ہوا۔اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم نے اسے پایا اور اُسکی شناخت کا موقعہ ہم کو دیا گیا۔وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِک۔یہ بدلہ۔یہ جزاء کس بات کی تھی؟ اسی عظیم الشان قربانی کی جو اس نے خدا تعالیٰ کے حضور دکھائی۔واقعی یہ بات قابلِ غور ہے کہ ابراہیمؑ کی عمر جب کہ سو برس کے قریب پہنچی۔اس وقت قوٰی بشری رکھنے والا کیا امید اولاد کی رکھ سکتا ہے۔پھر ۱۳ برس کی عمر کا نوجوان لڑکا جو ۸۴ برس کے بعد کا ملا ہوا ہو۔اس کے ذبح کرنے کا اپنے ہاتھ سے ارادہ کر لینا معمولی سی بات نہیں ہے۔جس کیلئے ہر شخص تیار ہو سکے۔غور کرو اس ذبح کے بعد عمر کے آخری ایّام میں اور قبر قریب ہے۔پھر کیا باقی رہ سکتا ہے۔نہ مکان رھا نہ عزّت و جبروت۔مگر اے ابراہیمؑ تجھ پر خدا کا سلام۔تو نے خدا تعالیٰ کے ایک اشارہ اور ایماء پر سارے ارادوں اور ساری خوشیوں، خواہشوں کو قربان کر دیا۔اور اس کے بدلے میں تُو نے وہ پایا جو