حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 378 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 378

طرح پر یاد رکھو کہ ہماری اور ہمارے امام کی کامیابی ایک تبدیلی چاہتی ہے کہ قرآن شریف کو اپنا دستور العمل بناؤ۔نِرے دعوے سے کچھ نہیں ہو سکتا۔اس دعوے کا امتحان ضروری ہے۔جب تک امتحان نہ ہو لے کوئی سرٹیفکیٹ کامیابی کامِل نہیں۔(الحکم ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ۴) ۱۱۵۔  : صبح و عصر کی نماز۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍دسمبر ۱۹۰۹ء) اسلامی کفّارات کیا ہیں۔گناہوں کی سزائیں۔گناہوں پر جُرمانے اور گناہ کے پیچھے نیکی۔کیسا سچ ہے ۔(نیکیاں دُور کر دیتی ہیں برائیوں کو) قانونِ قدرت میں بھی دیکھو قانونِ قدرت کی خلاف ورزی سے جب سزائیں آتی ہیں تو اس خلاف ورزی کے بعد قانون کی متابعت اور خلاف ورزی کے نقصان پر کچھ خرچ ہی کرنا پڑتا ہے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل ایڈیشن دوم صفحہ۲۹) ۱۱۶۔ مولیٰ کریم چونکہ شکور ہے اور علیم و خبیر ہے اس لئے وہ فرماتا ہے اِنَّ ۔بے شک اﷲ محسنین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔محسن کسے کہتے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے احسان کی تعریف جبرائیلؐ نے صحابہؓ کی تعلیم کیلئے پوچھی ہے۔آپؐ نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ تُو اﷲ تعالیٰ کو دیکھتا رہے۔یا کم از کم یہ یقین کرے کہ اﷲ تعالیٰ تجھ کو دیکھتا ہے۔یہ ایک ایسا مرتبہ عظیم الشان ہے جس کے کسی نہ کسی پہلو کے حاصل ہو جانے پر انسان گناہوں سے بچ جاتا ہے۔اور بڑے بڑے مراتب اور مدارج اﷲ تعالیٰ کے حضور پا لیتا ہے۔ساری نیکیوں کا سر چشمہ اور تمام ترقیوں اور بلند پروازگیوں کی جان اﷲ تعالیٰ پر ایمان ہے۔انسان اعلیٰ درجہ کے اخلاقِ فاضلہ کو حاصل ہی نہیں کر سکتا جب تک خدا تعالیٰ پر یقین نہ ہو کہ وہ ہے۔میں اس بات کے ماننے کے واسطے کبھی تیار نہیں ہو سکتا کہ ایک دہریہ بھی کبھی اعلیٰ اخلاق والا ہو سکتا ہے۔کوئی چیز اس کو گناہوں سے ارتکاب سے نہیں روک سکتی۔نیکی کا کوئی سچا مفہوم اس کی سمجھ میں نہیں آ سکتا۔پھر وہ نیکی کیسے کرے اور گناہوں