حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 379
سے کیونکر بچے۔اس کی ساری عمر ناامیدیوں اور مایوسیوں کا شکار رہتی ہے۔وہ اسباب اور علّت و معلول کے سلسلہ کے پیچ در پیچ تعلقات میں منہمک رہ کر آخر حسرت اور یاس سے اس دنیا کو چھوڑ جاتا ہے۔میں نے دہریہ اور ایمان والے دونوں کو مرتے دیکھا ہے۔اور دونوں کی موت میں زمین و آسمان کا فرق پایا ہے میں سچ کہتا ہوں اور اپنے ذاتی تجربہ سے کہتا ہوں اور پھر جو چاہے آزما کر دیکھ لے کہ سچّی راحت اور حقیقی خوشی صرف اور صرف ایمان باﷲ سے ملتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیھم السلام اور صلحاء کی لائف میں جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کوئی واقعہ خود کشی کا نہیں پایا جاتا۔مومن کی امید اپنے اﷲ پر بہت وسیع ہوتی ہے۔وہ کبھی اس سے مایوس نہیں ہوتا۔ان کی زندگی کے واقعات کو پڑھو تو معلوم ہو گا کہ ایک ایک وقت ان پر ایسا آیا ہے کہ زمین ان پر تنگ ہو گئی ہے۔لیکن اس شدّت ابتلا میں بھی وہ ویسے ہی خوش و خرم ہیں جیسے اس ابتلا کے دُور ہونے پر۔وہ کیا بات ہے جو ان کو موت کی سی حالت میں بھی خوش و خرم اور زندہ رکھتی ہے۔فقط اﷲ پر ایمان۔غرض محسنین کے زمرہ میں داخل ہونا بہت ہی مشکل اور پھر مشکل کشا ہے۔پہلا درجہ جو محسن کا اعلیٰ مقام ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔بعد میں حاصل ہوتا ہے۔اس کا ابتدائی درجہ یہی ہے کہ وہ یہ ایمان لائے کہ میرے ہر قول و ہر فعل کو مولیٰ کریم دیکھتا اور سنتا ہے۔جب یہ مقام اسے حاصل ہو گا تو ہر ایک بدی کے وقت اس کا نورِ قلب اس ایمان کی بدولت اس سے روکے گا اور لغزش سے بچا لے گا۔اور رفتہ رفتہ اسکا نتیجہ یہ ہو گا کہ آخر وہ اس مقام پر پہنچ جائے گا کہ خدا تعالیٰ کو دیکھ لے گا اور یہ وہ مقام ہے جو صوفیوںکی اصطلاح میں لقاء کہلاتا ہے۔پس جب انسان محسن ہو کر اﷲ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو پھر تھوڑا ہو یا بہت۔اﷲ تعالیٰ اس کے بہتر بدلے دیتا ہے۔یہ صرف اعتقادی اور علمی بات ہی نہیں۔کہانی اور داستان ہی نہیں بلکہ واقعات نفس الامری ہیں۔میں دنیا کی تاریخ میں جس سے مراد انبیاء علیھم السّلام کی پاک تاریخ لیتا ہوں۔بہت سے واقعات اس کی تصدیق میں پیش کر سکتا ہوں اور علمی طریق پر بھی خدا کے فضل سے اس کی سچّائی ثابت کرنے کو تیار ہوں۔مگر ان سب باتوں کو چھوڑ کر مَیں ایک عظیم الشان واقعہ صحابہ ؓ کی لائف کا دکھانا چاہتا ہوں۔میں ایک عرصہ تک اس سوال پر غور کرتا رہا کہ کیا وجہ تھی جو انصار کو خلافت نہ ملی۔بلکہ خلافت کے اوّل وارث مہاجر ہوئے۔اور مہاجرین میں سے بھی ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ۔حالانکہ انصار میں سب نے بڑی ہمت کی اور انکی اس وقت کی امداد ہی نے ان کو انصار کا پاک خطاب دیا لیکن اس کا کیا سِر ہے کہ بادشاہی اور حکومت کا ان کو حصّہ نہ ملا۔اور پہلا خلیفہ قریشی ہوا۔پھر دوسرا تیسرا چوتھا بھی۔یہاں تک کہ عباسیوں تک