حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 377 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 377

 : یہ خطاب عام ہے۔ہر مخاطبِ قرآن سے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍دسمبر ۱۹۰۹ء) ۱۱۳۔  : حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شَیَبَّتْنِیْ ھُود کہتے ہیں۔اسی آیت کی طرف اشارہ ہے۔کیونکہ ہر ایک استاد کو اپنی جماعت۔مُرشد کو اپنے مُریدوں کا سخت فکر ہوتا ہے یہاں نبی کریمؐ کو استقامت کا حکم دیا ہے اوراس کے ساتھ ہیمَنْ تَابَ مَعَکَ۔انسان کو اپنی ذات کی ذمہ داری مشکل ہے چہ جائیکہ دوسروں کا ذمّہ اٹھانا ہو۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وا آلہٖ وسلم دعا فرماتے تھے اَللّٰھُمَّ رَحْمَتَکن اَرْجُوْ فَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طُرْفَۃَ عَیْنٍ۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍دسمبر ۱۹۰۹ء) رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مھے سورہ ھودؔ نے بوڑھا کر دیا۔اس میں کیا بات تھی فَاسْتَقِمْ کُمَآ اُمِرْتَ۔تم سیدھی چال چلو۔نہ صرف تم بلکہ تمہارے ساتھ والے بھی۔یہ ساتھ والوں کو جس نے حضورؐ کو بوڑھا کر دیا۔انسان اپنا ذمّہ دار تو ہو سکتا ہے۔مگر ساتھیوں کا ذمّہ دار تو ہو سکتا ہے۔مگر ساتھیوں کا ذمّہ دار ہو تو کیونکر؟ بس یہ بہت خطرہ کا مقام ہے۔ایسا نہ ہو کہ تمہاری غفلتوں سے اﷲ تعالیٰ کے وہ وعدے جو تمہارے امام کے ساتھ ہیں پورا ہونے میں معرضِ توقف میں پڑیں۔موسٰی علیہ السلام۔جیسے۔جلیل القدر نبی کے ساتھ کنعان پہنچانے کا وعدہ تھا مگر قوم کی غفلت نے اسے محروم کر دیا۔پس اپنی ذمّہ داریوں کو سمجھو! اور خوب سمجھو غفلت چھوڑ دو اور اس نعمت کی قدر کرو جو آج کے مبارک دن میں پوری ہوئی۔میں پھر کہتا ہوں کہ فرماں بردار بن کر دکھاؤ۔(الحکم ۵؍مئی ۱۸۹۹ء صفحہ۵) رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورۃ ہود نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے۔وہ کیا بات تھی جس نے آپؐ کو بوڑھا کر دیا۔وہ یہ حکم تھافَاسْتَقِمْ کُمَآ اُمِرْتَ یعنی جب تک تُو اور تیرے ساتھ والے تقوٰی میں قائم نہ ہوں وہ کامیابیاں نہیں دیکھ سکتے۔اس لئے تو سیدھا ہو جا۔جیسا کہ تجھ کو حکم دیا گیا ہے۔اسی