حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 373 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 373

کرتے۔میری مثال سے ظاہر ہے کہ حصول رزق ماپ تول کی کمی پر موقوف نہیں۔: میرے ایک دوست بڑے مہمان نواز تھے۔ایک دفعہ ایک مہمان آیا۔عشاء کی نماز کا وقت تھا۔پاس پیسہ تک نہ تھا۔اسے کہا کہ آپ ذرا لیٹ جاویں میں آپ کے کھانے کا بندوبست کرتا ہوں۔اس کے بعد انہوں نے دعا کی ، توجّہ کی اور کہا  (مومن:۴۵) مولیٰ تیرا ہی مہمان ہے۔یکایک ایک آدمی نے آواز دی کہ لینا میرے ہاتھ جل گئے۔ایک قاب پلاؤ کا تھا۔نہ اس نے اپنا نام بتایا۔نہ ان کو جلدی میں خیال رہا وہ قاب مدّت تک بمد امانت رہا کوئی مالک پیدا نہ ہوا۔تو کّل عجیب چیز ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍دسمبر ۱۹۰۹ء) ۹۰۔  : اﷲ تعالیٰ تم سے قطع تعلق نہ کر دے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍دسمبر ۱۹۰۹ء) ۹۱۔ جب انسان کوئی غلطی کرتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کے کسی حکم اور قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ غلطی اور کمزوری اس کی راہ میں روک ہو جاتی ہے اور یہ عظیم الشان فضل سے محروم کیا جاتا ہے۔اس لئے اس محرومی سے بچانے کیلئے یہ تعلیم دی کہ استغفار کرو۔استغفار انبیاء علیھم السلام کا اجماعی مسئلہ ہے۔ہر نبی کی تعلیم کے ساتھرکھا ہے ہمارے امام کی تعلیمات میں جو ہم نے پڑھی ہیں استغفار کو اصل علاج رکھا ہے۔استغفار کیا ہے؟ پچھلی کمزوریوں کو جو خواہ عمداً ہوں یا سہوًا غرضمَا قَدَّمَ وَمَا اَخَّرَ نہ کرنے کا کام آگے کیا اور جو نیک کام کرنے سے رہ گیا ہے۔اپنی تمام کمزوریوں اور اﷲ تعالیٰ کی ساری رضامندیوں کو مَا اَعْلَمُ وَمَا لَا اَعْلَمُ کے