حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 374
نیچے رکھ کر اور آئندہ کیلئے غلط کاریوں کے بد نتائج اور بد اثر سے محفوظ رکھ اور آئندہ کیلئے ان بدیوں کے جوش سے محفوظ فرما۔یہ ہیں مختصر معنے استغفار کے۔(الحکم ۲۶؍فروری۱۹۰۸ء صفحہ۲ـ-۳) ۹۲۔ : یہ ایک بہانہ ہے۔انبیاء جو دین لاتے ہیں۔وہ بالکل سہل ہوتا ہے۔لوگ عجیب عجیب پیچیدہ رسمیں ادا کرتے ہیں اور خدا کے حکم پر عمل نہیں کرتے۔مَیں نے ایک خوجہ قوم شیعہ کو دیکھا ہے۔کہ ان میں سو سو سال کے بوڑھے ہو گئے اور ختنہ نہیں کرایا کیونکہ ختنہ کی رسوم کیلئے سو سو روپیہ چاہیئے تھا۔لوگوں نے خود اپنے تئیں مشکلات میں ڈال رکھا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍دسمبر ۱۹۰۹ء) ۹۷،۹۸۔ ہر فن میں جو اس فن کا ماہر ہو۔اس کی بات ماننی چاہیئے۔مثلاً کوئی انگریزی زبان کے متعلق مسئلہ ہو تو انگریزی جاننے والوں سے۔شعر شاعروں سے۔غرضیکہ ہر ایک کسب اس کے اہل سے دریافت کرنا چاہیئے۔دنیا میں ہر قسم کی تجارت و سیاست کو جس طرح یورپ والے جانتے ہیں۔ہم لوگ واقف نہیں ہیں۔لہذا ان سے سیاست و تجارت کے متعلق باتیں دریافت کرنی چاہئیں۔لیکن جن علوم سے وہ ناواقف ہیں مثلاً یورپ و امریکہ والے علومِ روحانی اور خدا شناسی سے بالکل نا آشنا ہیں۔: ہم نے موسٰیؑ کو فرعون کی طرف بھیجا۔فرعون تو اس فن سے ناواقف تھا۔جس کے متعلق موسٰیؑ آئے۔اس کے متبعین نے اس خاص فن میں بھی فرعون کی ہی اتباع کی۔پس اس کا نتیجہ ظاہر ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍دسمبر ۱۹۰۹ء)