حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 372 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 372

ایک مکذّب تَو آریہ کے اعتراض کے جواب میں کہ قومِ لوطؑ کی بستیاں اُلٹ کر پھینک دیں۔پتھروں کا مینہ برسایا۔جبرائیل نے پروں سے وہ شہر الٹا دیا۔فرمایا’’پھر کیا الہٰی کاموں میں یہ بڑی بات ہے۔تمہارے مذہب (ہندو) کی رُو سے تمام پر تھوی تباہ ہو جاتی ہے۔سب کچھ جَلْ بن جاتا ہے۔اور جَلْ بھی تباہ ہو جاتا ہے۔تو آگ بن جاتا ہے۔سو وہ بھی تباہ ہو کر ہوا بن جاتا ہے۔پھر وہ بھی تباہ ہو جاتی ہے۔بلکہ سب کچھ تباہ ہوکر صرف ایشور سامرتھیہ ہی باقی رہ جاتی ہے۔بدکاروں شریروں کیلئے ایسے نمونے ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔کیا تم نے جاوا۔پپائے کی تباہی کی آگہی حاصل نہیں کی۔اور جاوا، سینٹ پیری تو ان دنوں کے واقعات ہیں۔لوطؑ کی قوم شریر۔حق کی دشمن۔حقیقت کی عدو تھی۔گندے اعمال اور خلافِ فطرت کاموں میں منہمک تھی۔اﷲ تعالیٰ نے ان کو تباہ کر دیا۔ڈیڈ سِی۱؎ (بحرِ مُردار ) کی جھیل انکی تباہی کی زندہ نشانی ہے۔اور انکی بدعملی کا نمونہ بتانے کو انگریزی زبان میں ساڈومی کا لفظ موجود ہے۔اس جہان میں ہمیشہ نظارہ ہائے قدرت خدا تعالیٰ کے نبیوں کی تعلیم کی تصدیق کے لئے واقع ہوتے رہتے ہیں۔شریر ان کی خلاف ورزی میں تباہ ہوتے ہیں اور راست بازوں کی صداقت پر اپنی بربادی سے مُہر کر جاتے ہیں۔پتھروں کا مینہ ہی تھا۔جس نے حال میں سینٹ پیری تباہ کیا۔(نورالدّیں ایڈیشن صفحہ ۱۸۳) ۱؎ DEAD SEA ۸۹۔    : میں بدمعاملگی نہیں کرتا۔یعنی دین میں دھوکہ نہیں کرتا۔پھر بھی مجھے خدا نے اپنی جانب سے بہت عمدہ رزق دے رکھا ہے۔تو کیوں وَلَا تَنْقُصُو الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَانَ پرعمل نہیں