حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 363 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 363

اور افتراء ہے چند فیٹ چوڑی۔یہ بھی افتراء ہے۔روئے زمین یہ بھی افتراء ہے۔تمام چرند پرند در ند یہ بھی افتراء ہے۔مع خوراک یہ بھی افتراء ہے۔اتنے افتراء اور راستبازوں سے جنگ کر کے کامیابی کی امید ؟ زیر اعتراض یہ آیت ہیقُلْنَا احْمِلْ فِیْھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ۔اوّل اس میں مِنْ کا لفظ ہے جس کا ترجمہ سےؔ اور بعضؔہے۔کُلّ کا لفظ ہر ایک موقعہ کیلئے الگ الگ معنی دیتا ہے۔قرآن ِ کریم کے محاورات دیکھو۔یمن کی ملکہ کے متعلق ہے اُوْتِیَتْ مِنْکُلِّ شَیْیئٍ (نمل:۲۴)اُسے کل شَے دی گئی۔اور ذوالقرنین کی نسبت ہے اٰتَیْنَاہُ مِنْ کُلِّ شَیْیئٍ سَبَبًا (کہف:۸۵) ہم نے اسے کل قسم کے اسباب دئے۔اب کیا کل سے یہ مطلب ہے کہ دنیا کے جزوری و کلی اسباب سے ایک ذرّہ بھر باقی نہیں رہا تھا۔جو ان کے قبضہ میں نہ آیا ہو؟ یہ تو قانونِ قدرت اور عادۃ اﷲ اور عادۃ النّاس کے خلاف ہے۔ہر ایک بولی میں ہر ایک لفظ اپنے اپنے رنگ میں آتا ہے۔جیسے ہماری زبان میں ’’ سب ‘‘ کا لفظ ہے اور متکلم ذہن میں ایک بات رکھ کر بولتا ہے۔اور مخاطب متکلم کے معہود فی الذہن منشاء کے مطابق عین موقعہ پر اسے اتارتا ہے۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی ضروری اشیاء میں سے جو تجھے مطلوب اور تیرے کام کی ہیں کشتی میں اٹھالے۔اس میں کہاں لکھا ہے کہ تمام چرند پرند اور درخت اس میں رکھ لئے گئے۔(نورالدّین ایڈیشن سوم صفحہ۱۸۱) ۴۵۔ : اﷲ کے فضل پر وہ کشتی ٹھہری۔(تشحیذالاذہان جلد۶ نمبر۹صفحہ۳۵۷) ۴۷،۴۸۔