حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 364
انبیاء علیھم السلام اﷲ تعالیٰ کا ادب کس طرح فکرتے ہیں اور اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔یہاں بتایا ہے حضرت نوحؑ نے اپنے بیٹے کیلئے دعا کی اس بناء پر کہ اہل کے بچانے کا وعدہ کیا تھا۔اب اﷲ تعالیٰ حضرت نوحؑ کو ایک ادب سکھاتا ہے۔۔نوح! تو کیوں کہتا ہے ؟ یہ میرا اہل ہے۔جب ہمارا وعدہ تھا تو ہم کو خود ہی اس کا پاس تھا۔تم کیا جانو کہ یہ تمہارے اہل میں سے نہیں۔اب دوسری بات دیکھو کہ اس طریقِ ادب سکھانے کے جواب میں اگر ہم ہوتے تو کیا کہتے۔مجھے نبیوں کا علم نہ ہوتا۔تو میری فطرت یہ گواہی دیتی ہے۔کہ مَیں کہتا۔ایسا نہیں کروں گا۔مگر حضرت نوحؑ نے ایس نہیں کیا۔بلکہ ادب سے اپنی کمزوری کا اقرار کیا ہے اور یوں کہا کہ یعنی آپ ہی توفیق دیں کہ مَیں ایسی دعا نہ لروں جس کا مجھے علم نہ ہو۔دعوٰی نہیں کیا کہ مَیں ایسا نہیں کروں گا اسی واسطے صلحاء امّت نے لکھا ہے کہ توبہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک کام چھوڑ دے۔دومؔ دعا حفاظت کرے۔وعدہ کر لینا اچھی بات نہیں کیونکہ پھر ایسا کرے گا تو ایک گناہ اس بدی کا ، دوم گناہ وعدہ شکنی کا کیونکہ بعض انسانوں کو ایک بات کی لت ہو جاتی ہے۔تو وہ جب موقعہ آ جاتا ہے بول اُٹھتے ہیں۔بہار توبہ شکن آمد و چہ چارہ کنم دیکھو حضرت نبی کریمؐ نے دعا کی ہے رَحْمَتَکَ اَرْجُوْ فَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طُرْفَۃً۔قرآن مجید مومنوں کو ادب سکھاتا ہے اور فرمایا(حجرات:۳)اور (حجرات:۲) ایک شخص نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے تقسیم کردہ مالِ غنیمت کی نسبت اتنا کہا کہ اس میں انصاف ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔خالدؓ بن ولید قتل کرنے کے لئے اٹھے۔آنحضرتؐ نے روک دیا اور فرمایا کہ مومن ہونے کا دعوٰی کرتا ہے۔دَر گزر کرو۔مگر دیکھو گے کہ ایک قوم اس کے ذریعے پیدا ہو گی قرآن کریم جن کے حلق سے نیچے نہیں گزرے گا۔جمہور اہل اسلام کا مذہب ہے کہ حضرت علیؓ نے ایسے لوگوں کو قتل فرمایا۔حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ پر بڑے الزام لگائے گئے۔عبد اﷲ بن سلام نے سمجھایا کہ تم یہ جرأت دبے ادبی نہ کرو ورنہ اسکا نتیجہ یہ ہو گا کہ قیامت تک تلوار مسلمانوں سے نہ اُٹھے گی۔قتل کرنے